مخالف آندھیوں میں عزم کے دیپک جلاتا ہوں
مخالف آندھیوں میں عزم کے دیپک جلاتا ہوں کبھی جب وقت پڑتا ہے تو خود کو آزماتا ہوں میں شہزادہ ہوا کا ہوں خلا میری ریاست ہے کبھی میں اڑتے اڑتے آسماں کو پھاند جاتا ہوں کبھی میں ریت ہی سے کھیلتا رہتا ہوں بچوں سا کبھی میں ذات کے گہرے سمندر میں نہاتا ہوں کبھی بے خود پڑا رہتا ہوں میں ...