شاعری

مخالف آندھیوں میں عزم کے دیپک جلاتا ہوں

مخالف آندھیوں میں عزم کے دیپک جلاتا ہوں کبھی جب وقت پڑتا ہے تو خود کو آزماتا ہوں میں شہزادہ ہوا کا ہوں خلا میری ریاست ہے کبھی میں اڑتے اڑتے آسماں کو پھاند جاتا ہوں کبھی میں ریت ہی سے کھیلتا رہتا ہوں بچوں سا کبھی میں ذات کے گہرے سمندر میں نہاتا ہوں کبھی بے خود پڑا رہتا ہوں میں ...

مزید پڑھیے

لب دریا جو پیاسے مر گئے ہیں

لب دریا جو پیاسے مر گئے ہیں جنوں کا نام روشن کر گئے ہیں حسینی قافلہ جب یاد آیا کٹورے آنسوؤں سے بھر گئے ہیں جنہیں سورج نے بھی دیکھا نہ ہوگا وہ ننگے پاؤں ننگے سر گئے ہیں وہ کب کے جا بسے اس پار لیکن کئی یادیں یہاں بھی دھر گئے ہیں جنہیں تھا شوق میلہ دیکھنے کا وہ سارے لوگ اپنے گھر ...

مزید پڑھیے

جب میرا گھر بہشت سی گل وادیوں میں تھا

جب میرا گھر بہشت سی گل وادیوں میں تھا اس وقت میں گھرا ہوا شہزادیوں میں تھا وہ دن ہوا ہوئے وہ زمانے گزر گئے بندے کا جب قیام پری زادیوں میں تھا یک بار جو اجڑ گئے بستے ہوئے نگر لگتا ہے کوئی بھوت بھی ان وادیوں میں تھا بیٹھا تھا جس پہ میں نے وہی شاخ کاٹ دی خود میرا ہاتھ ہی مری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5400 سے 5858