اب ہم چراغ بن کے سر راہ جل اٹھے
اب ہم چراغ بن کے سر راہ جل اٹھے دیکھیں تو کس طرح سے بھٹکتے ہیں قافلے جو منتظر تھے بات کے منہ دیکھتے رہے خاموش رہ کے ہم تو بڑی بات کہہ گئے کب منزلوں نے چومے قدم ان کے ہمدمو ہر راہ روکے ساتھ جو رہ گیر چل پڑے جانے زباں کی بات تھی یا رنگ روپ کی ہم آپ اپنے شہر میں جو اجنبی رہے وہ لوگ ...