محبت کے تعاقب میں تھکن سے چور ہونے تک
محبت کے تعاقب میں تھکن سے چور ہونے تک اسے تم کھیل ہی سمجھے مرے مجبور ہونے تک وہ بے تابی مری ہر شام کے مستور ہونے تک تمہارا بام پر آنا اندھیرا نور ہونے تک تمہیں تو یاد ہی ہوگا ہمارے بیچ کا جھگڑا تمہارے وصل سے لے کر مرے مغرور ہونے تک خفا تم سے ذرا سی دیر کو اک روز ہو بیٹھا تمہاری ...