ہو جس قدر کہ تجھ سے اے پر جفا جفا کر
ہو جس قدر کہ تجھ سے اے پر جفا جفا کر کہتا ہوں میں بھی تجھ سے اے با وفا وفا کر بیت الصنم میں جا کر ہمدم بہ رب کعبہ لایا ہوں اس صنم کو گھر تک خدا خدا کر گوہر جو اشک کے ہیں کچھ چشم کے صدف میں غلطاں نہ خاک میں کر آنسو بہا بہا کر مرتے ہیں ہم تو لیکن سن تیری آمد آمد امید نے رکھا ہے اب تک ...