شاعری

جزیرے ہوں کہ وہ صحرا ہوں خواب ہونا ہے

جزیرے ہوں کہ وہ صحرا ہوں خواب ہونا ہے سمندروں کو کسی دن سراب ہونا ہے سوال پوچھنے والو تمہیں بھی آخر کار رہین منت بار جواب ہونا ہے کھنڈر میں بیٹھ کے رونے کی خو نہیں جاتی تمہاری آنکھ پہ شاید عذاب ہونا ہے وہ ظلمتیں جو اجالوں کے گھر میں رہتی ہیں انہیں بھی مثل سحر بے نقاب ہونا ...

مزید پڑھیے

نصیبہ جاگ اٹھا اور مقدر بن گیا اپنا

نصیبہ جاگ اٹھا اور مقدر بن گیا اپنا جہاں دیوار ہے اس کی وہیں گھر بن گیا اپنا نہ جانے دھوپ نے اپنی زباں میں کیا کہہ اس سے شجر کے جسم سے سایہ نکل کر بن گیا اپنا ہماری آنکھ سے نیندوں کا رشتہ توڑنے والے کوئی تجھ سے سوا خوش رنگ پیکر بن گیا اپنا ہمارا سر سلامت ہی رہا سنگ حوادث میں جو ...

مزید پڑھیے

خواب آنکھوں کی گلی چھوڑ کے جانے نکلے

خواب آنکھوں کی گلی چھوڑ کے جانے نکلے ہم ادھر نیند کی دیوار گرانے نکلے دھول رستے کا مقدر ہے تو رستہ کیا ہے بس یہی بات زمانے کو بتانے نکلے جب پہاڑوں سے ملی داد ہنر کی اپنے داستاں ہم بھی سمندر کو سنانے نکلے رنگ سے رنگ جدا ہونے کا منظر دیکھا تیرگی اور شفق صرف بہانے نکلے جب سمندر ...

مزید پڑھیے

زمیں کے ساتھ فلک کے سفر میں ہم بھی ہیں

زمیں کے ساتھ فلک کے سفر میں ہم بھی ہیں قفس نصیب سہی بال و پر میں ہم بھی ہیں وہیں سے لوٹ گئی راستوں کی تنہائی جہاں پہ اس نے یہ جانا سفر میں ہم بھی ہیں تو وہ شجر جو سدا برگ و بار دیتا ہے مثال آب نہاں اس شجر میں ہم بھی ہیں جسے کہیں سے سمندر نے لا کے پھینک دیا تمہارے ساتھ اک ایسے ہی ...

مزید پڑھیے

اک سرد جنگ کا ہے اثر میرے خون میں

اک سرد جنگ کا ہے اثر میرے خون میں احساس ہو رہا ہے دسمبر کا جون میں کس نے ہلائی آج یے زنجیر آگہی ایک شور سا بپا ہے میرے اندرون میں یہ اور بات خود کو بکھرنے نہیں دیا یادیں خلل تو ڈال رہیں تھیں سکون میں میرا تمہارے ہجر نے یہ حال کر دیا شب کو تمہاری شکل نظر آئی مون میں تحفہ مرے خلوص ...

مزید پڑھیے

قدم قدم پہ ہے رقصاں اداسیوں کا جھنڈ

قدم قدم پہ ہے رقصاں اداسیوں کا جھنڈ نفس نفس میں اترتا ہے سسکیوں کا جھنڈ ہمارے دل کی اداسی کسی کو کیا معلوم ہمیں سمجھ نہ سکے کیوں ہے ہچکیوں کا جھنڈ تمہارا ساتھ ہی چاہا تھا کیا گناہ کیا امڈ پڑا تھا کیوں راہوں میں بجلیوں کا جھنڈ سبینؔ مجھ کو بھی لاحق ہے موت کا خطرہ مرے بھی ساتھ ہے ...

مزید پڑھیے

چل دیا ناز زمانے کے اٹھانے والا

چل دیا ناز زمانے کے اٹھانے والا سارے گھر لے گیا گھر چھوڑ کے جانے والا آنکھ پر نم ہے یہی سوچ کے اہل دل کی لوٹ کر اب نہیں آئے گا ہنسانے والا بات تو کرتے ہیں سب لوگ وفا کی لیکن کس نے دیکھا ہے کہاں پر ہے نبھانے والا اب پریشان سا پھرتا ہے زمانے بھر میں زخم دل پر مرے تیزاب لگانے ...

مزید پڑھیے

پیا خموش ہے میرا

بہت گم سم بہت خموش ہے وہ چند عرصے سے سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ آخر ماجرا کیا ہے وہی موسم وہی چاہت وہی رنگت بھی پھولوں میں مگر اک اس کہ خموشی نے اس پر کیف موسم کو ہمارے واسطے موسم خزاں کا بنا ڈالا پرندے اب بھی باغوں میں چہکتے ہیں گھٹائیں اب بھی آتی ہیں ہوائیں اب بھی چلتی ہیں مگر پھر ...

مزید پڑھیے

منتظر

جب کبھی میں اداس ہوتی ہوں اک ہجوم آنسوؤں کا پلکوں پر منتظر اذن کو تڑپاتا ہے کیا کروں میں سمجھ نہیں آتا کس طرح سے تمہاری یادوں کو صورت اشک میں بہا ڈالوں کیا کہوں اک گھٹن کا عالم ہے میں ہوں تنہائی اور تری یادیں ہر گھڑی دل کو آرزو ہے یہی جو ابھی تک نہیں ہوا جاناں کاش ایسا کبھی ...

مزید پڑھیے

جبین شوق پہ گرد ملال چاہتی ہے

جبین شوق پہ گرد ملال چاہتی ہے مری حیات سفر کا مآل چاہتی ہے میں وسعتوں کا طلب گار اپنے عشق میں ہوں وہ میری ذات میں اک یرغمال چاہتی ہے ہمیں خبر ہے کہ اس مہرباں کی چارہ گری ہمارے زخموں کا کب اندمال چاہتی ہے تمہارے بعد مری آنکھ ضد پہ آ گئی ہے وہی جمال وہی خد و خال چاہتی ہے ہم اس کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4091 سے 5858