شاعری

بجھتے ہوئے چراغ فروزاں کریں گے ہم

بجھتے ہوئے چراغ فروزاں کریں گے ہم تم آؤگے تو جشن چراغاں کریں گے ہم باقی ہے خاک کوئے محبت کی تشنگی اپنے لہو کو اور بھی ارزاں کریں گے ہم بیچارگی کے ہو گئے یہ چارہ گر شکار اب خود ہی اپنے درد کا درماں کریں گے ہم جوش جنوں سے جامۂ ہستی ہے تار تار کیونکر علاج تنگی داماں کریں گے ہم اے ...

مزید پڑھیے

وہ جن کی لو سے ہزاروں چراغ جلتے تھے (ردیف .. ا)

وہ جن کی لو سے ہزاروں چراغ جلتے تھے چراغ باد فنا نے بجھائے ہیں کیا کیا نہ تاب دید نہ بے دیکھے چین ہی آئے ہمارے حال پہ وہ مسکرائے ہیں کیا کیا رضا و صبر و قناعت تواضع و تسلیم فلک نے ہم کو خصائل سکھائے ہیں کیا کیا لرز گیا ہے جہاں دست کاتب تقدیر ہماری زیست میں لمحات آئے ہیں کیا ...

مزید پڑھیے

میرے ہونٹوں کا ابھی زہر ترے جسم میں ہے (ردیف .. ا)

میرے ہونٹوں کا ابھی زہر ترے جسم میں ہے تو اگر بچھڑا تو کیا چین سے رہ پائے گا اے سخن فہم مرے شعر سے کیا لگتا ہے کیا مرے بعد مجھے یاد رکھا جائے گا میں تو اس شوق میں ہوتا ہوں کہ کچھ بولیں لوگ بولنا اپنا کبھی رنگ تو دکھلائے گا تو جو اب ساتھ نہیں ہے تو یہی لگتا ہے اب خدا بھی تو مرے کام ...

مزید پڑھیے

آرزوئے حیات

اے آرزوئے حیات اب کی بار جان بھی چھوڑ تجھے خبر ہی نہیں کیسے دن گزرتے ہیں اے آرزوئے نفس اب معاف کر مجھ کو تجھے یہ علم نہیں کتنی مہنگی ہیں سانسیں کہ تو تو لفظ ہے بس ایک لفظ ادھ مردہ ترے خمیر کی مٹی کا رنگ لال گلال سلگتی آگ نے تجھ کو جنا ہے اور تو خود اک ایسی بانجھ ہے جس سے کوئی امید ...

مزید پڑھیے

وہ عورت تھی

خلا کی مشکلات اپنی جگہ قائم تھیں اور دنیا اجڑتی بھربھری بنجر زمینوں کی نشانی تھی ستارے سرخ تھے اور چاند سورج پر اندھیروں کا بسیرا تھا درختوں پر پرندوں کی جگہ ویرانیوں کے گھونسلے ہوتے زمیں کی کوکھ میں بس تھور تھا اور خار اگتے تھے ہوا کو سانس لینے میں بہت دشواریاں ہوتیں تو پھر اس ...

مزید پڑھیے

گواہی

میں محبت کے ستاروں سے نکلتا ہوا نور حق و ناحق کے لبادوں میں چھپا ایک شعور میرے ہی دم سے ہوا مسجد و مندر کا ظہور میں مسلمان و برہمن کے ارادوں کا فتور میں حیا زادی و خوش نین کے ہونٹوں کا سرور کسی مجبور طوائف کی نگاہوں کا قصور میری خواہش تھی کہ میں خود ہی زمیں پر جاؤں اور زمیں زاد کا ...

مزید پڑھیے

رات بھر تم نہ جاگتے رہیو

رات بھر تم نہ جاگتے رہیو خواب آنکھوں میں پالتے رہیو ایک لمحہ میں فیصلہ کرنا عمر بھر یاں نہ سوچتے رہیو جو کسی کی سنا نہیں اب تک اس خدا کو نہ پوجتے رہیو وقت کے ساتھ ساتھ چلنا تم اک جگہ تو نہ بیٹھ کے رہیو بھول کر بھی نہ لو یہاں احساں اس بلا سے تو بھاگتے رہیو اپنی ہستی ہی کیا سو تم ...

مزید پڑھیے

بیاں اے ہم نشیں غم کی حکایت اور ہو جاتی

بیاں اے ہم نشیں غم کی حکایت اور ہو جاتی ذرا ہم خستہ حالوں کی طبیعت اور ہو جاتی نصیحت حضرت واعظ کی سنتے بھی تو کیا ہوتا یہی ہوتا کہ ہم کو ان سے وحشت اور ہو جاتی بہت اچھا ہوا آنسو نہ نکلے میری آنکھوں سے بپا محفل میں اک تازہ قیامت اور ہو جاتی تڑپ کر دل نے منزل پر مجھے چونکا دیا ...

مزید پڑھیے

کبھی سسکی کبھی آوازہ سفر جاری ہے

کبھی سسکی کبھی آوازہ سفر جاری ہے کسی دیوانے کا دیوانہ سفر جاری ہے تھک کے بیٹھیں تو کہیں ہاتھ وہ چھوڑوا ہی نہ لے بس اسی خوف میں ہی اندھا سفر جاری ہے یہ جو آگے کی طرف پاؤں نہیں اٹھتے مرے اپنے اندر کی طرف میرا سفر جاری ہے کتنی ہی منزلیں پا کر بھی تسلی نہ ہوئی میرے بل بوتے پہ قسمت ...

مزید پڑھیے

وہ میرا یار ہے پر میری مانتا نہیں ہے

وہ میرا یار ہے پر میری مانتا نہیں ہے وہ درد دیتا ہے پر درد بانٹتا نہیں ہے یا اس کو میری زباں کی سمجھ نہیں آتی یا جان بوجھ کے اس سمت دیکھتا نہیں ہے تو اس کے پاس کبھی جا کے تھوڑا وقت گزار کہ جتنا تو نے سنا اتنا وہ برا نہیں ہے وہ بولی تیرے لئے خاندان کیوں چھوڑوں وقارؔ تجھ سے مرا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 376 سے 5858