بجھتے ہوئے چراغ فروزاں کریں گے ہم
بجھتے ہوئے چراغ فروزاں کریں گے ہم تم آؤگے تو جشن چراغاں کریں گے ہم باقی ہے خاک کوئے محبت کی تشنگی اپنے لہو کو اور بھی ارزاں کریں گے ہم بیچارگی کے ہو گئے یہ چارہ گر شکار اب خود ہی اپنے درد کا درماں کریں گے ہم جوش جنوں سے جامۂ ہستی ہے تار تار کیونکر علاج تنگی داماں کریں گے ہم اے ...