خط نے آ کر کی ہے شاید رحم فرمانے کی عرض
خط نے آ کر کی ہے شاید رحم فرمانے کی عرض تب تو اب سنتا ہے ہنس کر مجھ سے دیوانے کی عرض شام غربت ہم سے مجروحوں کی ہے فریاد رس زلف کی چھاتی پھٹی ہے سنتے ہی شانے کی عرض بوسۂ لعل بتاں جو لے سو ہو بے آبرو اتنی ہی خدمت میں مستوں کی ہے پیمانے کی عرض گوش گل میں سب پھپھولے پڑ گئے شبنم کے ...