شاعری

مر ہی جاؤں جو ملے موت قرینے والی

مر ہی جاؤں جو ملے موت قرینے والی زندگی تو مجھے لگتی نہیں جینے والی حضرت شیخ نے پابند کیا ہے ورنہ ایک ہی چیز مجھے لگتی ہے پینے والی یہ مرے سارے گھرانے کے لیے کافی ہے یہ کمائی ہے مرے خون پسینے والی جس کسی نے بھی سنائی ہے ادھوری ہی سنائی اک کہانی کسی مدفون خزینے والی مجھ کو لگتا ...

مزید پڑھیے

جو سوچتے رہے وہ کر گزرنا چاہتے ہیں

جو سوچتے رہے وہ کر گزرنا چاہتے ہیں کہ خواب آنکھوں سے گھر میں اترنا چاہتے ہیں سنائی دیتی ہے ہر سمت سے نوید بقا امیر شہر کہ جب لوگ مرنا چاہتے ہیں پرندہ خوف زدہ ہیں کہ پالنے والے پروں کے ساتھ زباں بھی کترنا چاہتے ہیں زمیں کی آرزو سیراب ہو کسی صورت سمندروں میں جزیرے ابھرنا چاہتے ...

مزید پڑھیے

موسم کو بھی وقارؔ بدل جانا چاہئے

موسم کو بھی وقارؔ بدل جانا چاہئے کھولی ہیں کھڑکیاں تو ہوا آنا چاہئے بے جا انا سے اور الجھتے ہیں مسئلے آیا نہیں ہے وہ تو مجھے جانا چاہئے سچ کو بھی جھوٹ جھوٹ کو سچ کر دکھاؤ گے بس اک امیر شہر سے یارانہ چاہئے سورج کا فیض عام ہے پر وہ بھی کیا کرے روزن تو گھر میں کوئی نظر آنا ...

مزید پڑھیے

برسوں بعد ملا تو اس نے ہم سے پوچھا کیسے ہو

برسوں بعد ملا تو اس نے ہم سے پوچھا کیسے ہو شہر نگاراں کے مرکز تھے تنہا تنہا کیسے ہو وہ کچھ میرے درد کو بانٹے میں کچھ اس کے غم لے لوں ایسا ہو تو کیا اچھا ہو لیکن ایسا کیسے ہو چہرے پر جو ہریالی تھی وہ شہروں میں زرد ہوئی گاؤں کا مکھیا پوچھ رہا ہے میرے بھیا کیسے ہو اٹھتی ہوئی موجوں ...

مزید پڑھیے

کھیل موجوں کا خطرناک سہی کیا میں اس کھیل سے ڈر جاؤں گا

کھیل موجوں کا خطرناک سہی کیا میں اس کھیل سے ڈر جاؤں گا پھر کوئی لہر پکارے گی پھر میں دریا میں اتر جاؤں گا خوبصورت ہیں یہ آنکھیں لیکن کیا میں آنکھوں میں ٹھہر جاؤں گا خواب کی طرح سے دیکھا ہے تمہیں خواب کی طرح بکھر جاؤں گا شکل بن جاؤں گا بادل میں کبھی پروا میں ابھر جاؤں گا میں کسی ...

مزید پڑھیے

بدلے ہوئے حالات سے مایوس نہ ہونا

بدلے ہوئے حالات سے مایوس نہ ہونا انسان کے جذبات سے مایوس نہ ہونا یہ رات اسی کی ہے سحر بھی ہے اسی کی اس درد بھری رات سے مایوس نہ ہونا ہر دل سے اداسی کا بھرم توڑتے رہنا مایوس خیالات سے مایوس نہ ہونا مانا کہ بہت آگ ہے ماحول میں لیکن اس ملک کی برسات سے مایوس نہ ہونا دنیا سے بہت آس ...

مزید پڑھیے

لہو لہو سا دل داغدار لے کے چلے

لہو لہو سا دل داغدار لے کے چلے چمن سے تحفۂ فصل بہار لے کے چلے رکے تو سایۂ ابر بہار بن کے رکے چلے تو گردش لیل و نہار لے کے چلے سنا ہے حسن کی محفل میں پیار بکتا ہے کہو کہ عشق بھی دامن کے تار لے کے چلے کہو صبا سے کہ بیٹھے ہیں رند جام بکف چمن میں قافلۂ نوبہار لے کے چلے وفا کی راہ میں ...

مزید پڑھیے

ہم نے اس شوخ کی رعنائی قامت دیکھی

ہم نے اس شوخ کی رعنائی قامت دیکھی چلتی پھرتی ہوئی تصویر قیامت دیکھی محتسب جام و سبو گھر میں ہمارے نکلے ہم نے یہ حضرت زاہد کی کرامت دیکھی میں چلا دل کا جنازہ جو بغل میں لے کر بولے میں نے یہی چلتی ہوئی تربت دیکھی ہم گئے سوئے عدم تو نہ وہاں سے آیا نامہ بر راہ تری تا دم رحلت ...

مزید پڑھیے

جائے عاشق کی بلا حشر میں کیا رکھا ہے

جائے عاشق کی بلا حشر میں کیا رکھا ہے ایک فتنہ تری ٹھوکر کا اٹھا رکھا ہے لطف کونین ہے اس میں مری بوتل کی پیو زاہدو چشمۂ تسنیم میں کیا رکھا ہے مل ہی جاتا ہے کوئی چھیڑنے والا مجھ کو تم الگ ہو تو مجھے دل نے ستا رکھا ہے کل وہ فتنہ بھی قیامت میں قیامت ہوگا جس کو آج آپ نے قدموں سے لگا ...

مزید پڑھیے

کیا ہوا اس نے جو عاشق سے جفاکاری کی

کیا ہوا اس نے جو عاشق سے جفاکاری کی روح نے جبکہ نہ قالب سے وفاداری کی لمبی داڑھی بھی کسی ہاتھ سے رسوا ہوگی حضرت شیخ سزا پائیں گے مکاری کی تو وہ ظالم ہے گیا ناز سے اترا کے جو واں داور حشر نے بھی تیری طرف داری کی داغ روشن مرے سینہ پہ جو دیکھے اس نے مہر پر نور پہ بھپتی کہی چنگاری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 364 سے 5858