شاعری

قفس نصیبوں کو تڑپا گئی ہوائے بہار

قفس نصیبوں کو تڑپا گئی ہوائے بہار چھری سی دل پہ چلی جب چلی ہوائے بہار کوئی تو جرعہ کش جام ارغوانی ہو کسی کو ہجر کے غم میں لہو رلائے بہار ہوا میں آج کل اک دھیمی دھیمی وحشت ہے اسی زمانے سے شاید ہے ابتدائے بہار نسیم صحن چمن میں پچھاڑیں کھاتی ہے تو دل کو اور بھی تڑپاتی ہے ادائے ...

مزید پڑھیے

آہ بیمار کارگر نہ ہوئی

آہ بیمار کارگر نہ ہوئی چرخ کانپا مگر سحر نہ ہوئی صبح محشر ہوئی شب تاریک صورت یار جلوہ گر نہ ہوئی شب امید کٹ گئی لیکن زندگی اپنی مختصر نہ ہوئی دور سے آج ان کو دیکھ لیا دل کو تسکیں ہوئی مگر نہ ہوئی آنکھوں آنکھوں میں لے لیا وعدہ کانوں کان ایک کو خبر نہ ہوئی اف ری چشم عتاب اف رے ...

مزید پڑھیے

یکساں کبھی کسی کی نہ گزری زمانے میں

یکساں کبھی کسی کی نہ گزری زمانے میں یادش بخیر بیٹھے تھے کل آشیانے میں صدمے دیے تو صبر کی دولت بھی دے گا وہ کس چیز کی کمی ہے سخی کے خزانے میں غربت کی موت بھی سبب ذکر خیر ہے گر ہم نہیں تو نام رہے گا زمانے میں دم بھر میں اب مریض کا قصہ تمام ہے کیونکر کہوں یہ رات کٹے گی فسانے ...

مزید پڑھیے

پچھلے کو اٹھ کھڑا نہ ہو درد جگر کہیں

پچھلے کو اٹھ کھڑا نہ ہو درد جگر کہیں پہنچے نہ اڑتے اڑتے کہیں سے خبر کہیں کیفیت حیات سے خالی ہوا ہے دل او ساقیٔ ازل مرا پیمانہ بھر کہیں مر جائیں گے تڑپ کے اسیران بدنصیب سن پائیں گے جو مژدۂ وحشت اثر کہیں پھڑکا کیے مرقع عالم کے حسن پر ٹھہری کبھی نہ اہل ہوس کی نظر کہیں آخر حجاب و ...

مزید پڑھیے

زمانے پر نہ سہی دل پہ اختیار رہے

زمانے پر نہ سہی دل پہ اختیار رہے دکھا وہ زور کہ دنیا میں یادگار رہے کہاں تلک دل غم ناک پردہ دار رہے زبان حال پہ جب کچھ نہ اختیار رہے نظام دہر نے کیا کیا نہ کروٹیں بدلیں مگر ہم ایک ہی پہلو سے بے قرار رہے ہنسی میں لغزش مستانہ اڑ گئی واللہ تو بے گناہوں سے اچھے گناہ گار رہے ابھارتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 328 سے 5858