فقط موت مجھے بھاتی ہے
ایسے لگتا ہے کہ صحرا ہے کوئی دور تک پھیلی ہوئی ریت کو جب دیکھتا ہوں میری آنکھوں میں وہی پیاس چھلک آتی ہے روح کی پیاس چھلک آتی ہے پھر ہوا وقت کے ہاتھوں میں ہے تلوار کی مانند رواں پھر سلگتا ہوں فقط موت مجھے بھاتی ہے دل مرا آج بھی افسردہ اداس دل بدلتا ہی نہیں راستے روز بدل لیتے ہیں ...