سوکھے ہوئے پتوں میں آواز کی خوشبو ہے
سوکھے ہوئے پتوں میں آواز کی خوشبو ہے الفاظ کے صحرا میں تخیل کا آہو ہے جاتے ہوئے سورج کی اک ترچھی نظر ہی تھی تب شرم کا سندور تھا اب ہجر کا گیسو ہے مسحور فضا کیوں ہے مجبور صبا کیوں ہے رنگوں کے حصاروں میں نغمات کا جادو ہے موجوں سے الجھنا کیا طوفان سے گزرنا کیا ہر ڈوبنے والے کو ...