زندگی کرنے کے حیلے نہ بہانے آئے
زندگی کرنے کے حیلے نہ بہانے آئے ہم تو دنیا میں فقط خاک اڑانے آئے یاد ماضی میں فراموش کیا فردا کو عرصۂ عشق میں ایسے بھی زمانے آئے دل وہ بستی ہے اجڑ جائے تو بستی ہی نہیں کتنے سادہ ہیں اسے پھر سے بسانے آئے مسئلہ کوئی نہیں ایسا جو حل ہو نہ سکے بس اسی بات پہ دنیا کو منانے آئے وہ ...