چور دروازہ کھلا رہتا ہے
میرے خواب زخمی ہوئے تو دنیا کے سارے ضابطے جھوٹے لگے میں نے زندگی کے لیے بھیک مانگی مگر آباد لمحوں کی پوجا کے لیے وقت کبھی میرے لیے نہ رکا مجھے ویسٹ پن سے اپنائیت محسوس ہوئی لوگ کاغذوں سے بنے کھلونے تھے جنہیں ہمیشہ خلاف مرضی ناچنا پڑا بھیگے ساحلوں کی ہوا میں خون ہی خون ...