حکایت گریزاں
میں کہ لا انتہا وقت کی رہ گزر پر صرف اک لمحۂ مختصر میں کہ احساس و افکار کے بحر ذخار میں صرف اک قطرہ مضطرب میں کہ صحرائے ہستی کی تپتی ہوئی ریت پر صرف اک ذرہ سرنگوں میں کہ اک وسعت کائنات حسیں میں صرف اک نقطۂ بے سکوں میں وہ قطرہ کہ جس میں سمندر کی بیتابیاں موجزن ہیں وہ لمحہ جو ...