شاعری

علم میں جھینگر سے بڑھ کر کامراں کوئی نہیں

علم میں جھینگر سے بڑھ کر کامراں کوئی نہیں چاٹ جاتا ہے کتابیں امتحاں کوئی نہیں ظلم ہے با وصف مہر اس کو کہیں نا مہرباں آسماں سے بڑھ کے سچا مہرباں کوئی نہیں لکھنؤ دلی انہیں شہروں پہ کیا موقوف ہے ہر جگہ اہل زباں ہیں بے زباں کوئی نہیں ہے مثل مشہور دست خود دہان خود ظریفؔ ہوٹلوں میں ...

مزید پڑھیے

غنچہ دہن وہی ہے کہ گونگا کہیں جسے

غنچہ دہن وہی ہے کہ گونگا کہیں جسے ہے سرو قد وہ اصل میں لنگڑا کہیں جسے معشوق چاہیے کہ ہو ایسا سیاہ فام مجنوں میاں بھی دیکھ کے لیلیٰ کہیں جسے مے کو جو اصطلاح میں کہتے ہیں دخت رز وہ مغبچہ ہے رندوں کا سالا کہیں جسے سب جانور نہ حضرت انساں سے کیوں ڈریں پیدا ہیں اس کے پیٹ سے حوا کہیں ...

مزید پڑھیے

تمنا ہے کسی کی تیغ ہو اور اپنی گردن ہو

تمنا ہے کسی کی تیغ ہو اور اپنی گردن ہو پھر اس کے بعد یا رب سر کٹے نالے میں مدفن ہو ہجوم عام ہو اور مجتمع گوروں کی پلٹن ہو سمجھ لو لوٹ آئے ہیں جو اسٹیشن پہ دن دن ہو کہیں قاتل کو ہم محبوب اگر ہے عین نادانی حذر لازم ہے ایسے شخص سے جو اپنا دشمن ہو لب شیریں اگر معشوق کا قند مکرر ...

مزید پڑھیے

انیسؔ ناگی کے نام

دم وصال نگاہوں میں ہجر کا منظر مثال گردش آئینہ ایسے بولتا ہے کہ جیسے کوچۂ خاک وجود کے اندر غبار نیند کا حیرت کے راز کھولتا ہے میں جاگتا ہوں مگر شہر میرے ساتھ نہیں ہوا نے بام پہ رکھے دئیے بجھائے ہیں شب سیاہ نے ہم سب کے دل دکھائے ہیں میں بے کنار سے رستے پہ پاؤں پاؤں چلا کنارۂ مہ و ...

مزید پڑھیے

نائن الیون

جب گرد و غبار کا طوفان میری جانب بڑھنے لگا تو مجھے یاد آیا کہ پوری دنیا میں آنکھیں ایک جیسے آنسو بہاتی ہیں آگ میں ابلتی ہوئی ہڈیاں ایک جیسی رنگت اختیار کر لیتی ہیں لہو جب جم جاتا ہے اس کے سرخ سے سیاہ ہونے کا دورانیہ ایک جتنا ہوتا ہے گرد و غبار کے طوفان نے سب کچھ ڈھانپ لیا مگر ...

مزید پڑھیے

جمہوریت

رائے کی آزادی میری بانسری کا سر ہے جسے میری سانسوں سے نکال کر غباروں میں بھر دیا گیا ہے میرے پھول کی خوشبو کو گنڈیریوں کی ریڑھی پر رکھ کر فروخت کیا جاتا ہے میری بھوک کو میرا بھائی آدھی روٹی کے ساتھ چرا لیتا ہے ہر سال میرے چراغ کی لو انکم ٹیکس کے ساتھ کاٹ لی جاتی ہے اور ہر عید ...

مزید پڑھیے

بد حالی کی خود نوشت

میری پیدائش پر قرض خواہوں نے جشن منایا مجھے پی ایل 480 کے دانۂ گندم سے بپتسمہ دیا گیا اور امداد میں ملنے والے خشک دودھ سے میری پرورش کی گئی مجھے پولیو کی جعلی قطرے پلائے گئے اور کاندھے پر جاں نشینی کی چادر ڈال کر مجھے بوڑھے والدین اور چھوٹے بہن بھائیوں کا کفیل مقرر کیا گیا اب میں ...

مزید پڑھیے

یوں بھی ہوتا ہے خاندان میں کیا

میں روزانہ ایک سو روپے اجرت کا ملازم ہوں میرا بیٹا ٹائر پنکچر کی دوکان پر کام کرتا ہے اور استاد کی گالیوں اور تھپڑوں کے علاوہ تیس روپے روز کماتا ہے بیوی اور نوعمر بیٹی تین چار بڑے گھروں میں صفائی اور برتن دھوتی ہیں! مجھے یاد نہیں کہ کبھی میرے کنبے نے مل کر ناشتہ کیا ہو یا رات کے ...

مزید پڑھیے

مرے لوگو! میں خالی ہاتھ آیا ہوں

کئی منظر بدلتے ہیں کھلی آنکھوں کے شیشے پر سلگتی خاک کا چہرہ چراغوں کا دھواں، کھڑکی، کوئی روزن۔۔۔ ہوا کے نام کرنے کو ہمارے پاس کیا باقی، بچا ہے؟ لہو کے پر لگی سڑکیں کٹے سر پر برستی جوتیوں کے شور میں جاگا ہوا بے خانماں نام و نسب، ماتم کناں گریہ کناں آنکھیں، شکستہ رو سحر کی ...

مزید پڑھیے

نوستالجیا

پھول پتے اور جھاڑیاں گزرتے وقت کو روک لیتے ہیں پگڈنڈیاں گلیاں پرانے مکان آوازیں دینے لگتے ہیں دھوپ چاندنی اور اندھیرا پر نئے دوستوں کی طرح باتیں کرتے ہیں آبائی قبرستانوں کی ہوا ان لڑکیوں کی پیامبر بن جاتی ہے جن سے لوگ ہمیشہ کے لیے محبت کرتے ہیں بات کیے بغیر چہروں اور ناموں میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 239 سے 5858