شاعری

کیا کرے گی یہ تری کاکل پیماں میرا

کیا کرے گی یہ تری کاکل پیماں میرا حال کچھ اس سے بھی افزوں ہے پریشاں میرا پاس آنے بھی نہ دیوے کبھو پروانے کو دیکھ لے حال اگر شمع فروزاں میرا جی میں ہے دیکھیے مر کر بھی کہ کیا ہوتا ہے جیتے جی تک تو نہ نکلا کوئی ارماں میرا شکر صد شکر کہ تم آئے ہو میرے گھر میں آج آباد ہوا خانۂ ویراں ...

مزید پڑھیے

نہ آئے سامنے میرے اگر نہیں آتا

نہ آئے سامنے میرے اگر نہیں آتا مجھے تو اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا بلا اسے بھی تو کہتے ہیں لوگ عالم میں عجب ہے کس لیے وہ میرے گھر نہیں آتا وہ میرے سامنے طوبیٰ کو قد سے ماپ چکے انہوں کے نام خدا تا کمر نہیں آتا نہ بے خطر رہو مجھ سے کہ درد مندوں کے لبوں پہ نالہ کوئی بے خطر نہیں ...

مزید پڑھیے

قائل بھلا ہوں نامہ بری میں صبا کے خاک

قائل بھلا ہوں نامہ بری میں صبا کے خاک پھرتی ہے وہ بھی گلیوں میں اکثر اڑا کے خاک کہتا ہوں سوز دل سے کہ کر چک جلا کے خاک ایک بات پر جو یار نے جانی اٹھا کے خاک کیا کانپتا ہے نالۂ سوزاں سے اے فلک جب بات تھی کہ مجھ کو کیا ہو جلا کے خاک پانی نکل کے دشت میں جاری ہے جا بجا یارب گیا ہے کون ...

مزید پڑھیے

سیہ بستر پڑے ہیں صبح نظارہ اتر آئے

سیہ بستر پڑے ہیں صبح نظارہ اتر آئے کہ شب کو زینہ زینہ کوئی مہ پارہ اتر آئے سوار غم رواں ہیں کھول دو عشرت کدوں کے در خبر کیا کون اندھیرے کا تھکا ہارا اتر آئے عجب ڈر ہے مٹیلی وادیاں اوپر کو تکتی ہیں کسی طوفان کی صورت نہ طیارہ اتر آئے دمک اٹھے مری صبحوں میں وہ ہنستا ہوا چہرہ مری ...

مزید پڑھیے

خاک ہم منہ پہ ملے آئے ہیں

خاک ہم منہ پہ ملے آئے ہیں چاند کو چھو کے چلے آئے ہیں شعلہ شعلہ یہ چٹانوں کے بدن آبشاروں میں ڈھلے آئے ہیں کسی منظر پہ نہیں کھلتی آنکھ کس کی پلکوں کے تلے آئے ہیں چاندنی سے کہو بازو کھولے اس کی خوشبو کے جلے آئے ہیں شوخ کرنوں نے پکارا ہے ہمیں دن ہمارے بھی بھلے آئے ہیں وہی تعبیر ...

مزید پڑھیے

تنگ کمروں میں ہے محبوس فضا کا مطلب

تنگ کمروں میں ہے محبوس فضا کا مطلب کون سمجھے گا یہاں تازہ ہوا کا مطلب پھول سے چہرے پہ بھی لفظ بہ لفظ ابھرا ہے زرد ہوتی ہوئی تحریر حنا کا مطلب آنکھیں خوابوں کے ورق چہرہ حقیقت کی کتاب ہم ہی خود پڑھ نہ سکے اس کی وفا کا مطلب ریگ ساحل پہ قلم بند کیا ہے کس نے شب کے جسموں کا بیاں رقص ...

مزید پڑھیے

قیامت کا کوئی ہنگام ابھرے

قیامت کا کوئی ہنگام ابھرے اجالے ڈوب جائیں شام ابھرے کسی تلوار کی قاتل زباں پر لہو چہکے ہمارا نام ابھرے گرے گلیوں کے قدموں پر اندھیرا فضا میں روشنئ بام ابھرے ہیں سطح بحر پر موجیں پریشاں جو دن ڈوبے تو کوئی شام ابھرے ہزاروں رنگ پرچم سرنگوں ہیں وہ ہم ہی تھے کہ بس گم نام ...

مزید پڑھیے

رات آنسو کو تری آنکھ میں دیکھا ہم نے

رات آنسو کو تری آنکھ میں دیکھا ہم نے رکھ دیا توڑ کے جیسے کوئی تارا ہم نے گمشدہ جسم ملے حلقۂ بازو جاگے شام سے اوڑھ لیا آج سویرا ہم نے غم میں خوش رہتے ہیں ہر سایۂ قربت سے دور اب بدل ڈالا مزاج اہل وفا کا ہم نے اوس میں مہکی ہوئی رات کے پونچھے آنسو صبح کو دے دیا ہنستا ہوا چہرا ہم ...

مزید پڑھیے

روشنی لٹکی ہوئی تلوار سی

روشنی لٹکی ہوئی تلوار سی حسن افزا زندگی خوں خوار سی خوشبوؤں کی نرم ہم آغوشیاں درمیاں اک آہنی دیوار سی سامنے صد رنگ نسخے، مشورے زندگی صدیوں سے کچھ بیمار سی کالی آنکھوں میں شہابی کروٹیں کوئی خواہش رات میں بیدار سی محو سے ہوتے ہوئے اخباری شور یاد کی آہٹ اچانک تار سی اونگھتی ...

مزید پڑھیے

شعر آشوب

تجھ میں اے ہندوستاں کچھ آج کل حد سے سوا چار سو پھیلی ہوئی ہے شاعری کی اک وبا اس مرض میں اب تو اسی فیصدی ہیں مبتلا مستند شاعر ہے جس نے اک تخلص رکھ لیا شاعری گو عہد ماضی میں تھی پایان علوم اب تخلص میں سمٹ کر آ گئی جان علوم اے عجائب خانۂ ہستی کی جنس بے بہا عہد موجودہ کے شاعر واہ کیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 236 سے 5858