یاں چلا آئے جو وہ سیم بدن آپ سے آپ
یاں چلا آئے جو وہ سیم بدن آپ سے آپ دفع ہو دل سے مرے رنج و محن آپ سے آپ مت رہو چیں بہ جبیں اس سے کہ کوئی دن میں اس سے بے ساختہ وہ دے گی شکن آپ سے آپ کل اسے دیکھ کے بھر آئی جو چھاتی میری بھر گئے سینے کے سب زخم کہن آپ سے آپ اس کے رخسار کو کب دل سے بھلایا ہم نے رک گیا ہم سے وہ کچھ رشک چمن ...