شاعری

کوئی قصور نہیں میری خوش گمانی کا

کوئی قصور نہیں میری خوش گمانی کا اثر ہے یہ تری آنکھوں کی بے زبانی کا کسی نے میری محبت کو کر لیا محفوظ خیال آیا کسی کو تو پاسبانی کا برائے نام سا پل بھی نہیں بنا مجھ سے کہ کچھ علاج نہیں تھا تری روانی کا ہمارے دل کا المناک دور ہے شاید سمجھ رہے ہیں جسے کھیل سب جوانی کا وہ داستان ...

مزید پڑھیے

گرد سفر میں راہ نے دیکھا نہیں مجھے

گرد سفر میں راہ نے دیکھا نہیں مجھے اک عمر مہر و ماہ نے دیکھا نہیں مجھے اچھا ہوا کہ خاک نشینوں کے رو بہ رو اس شہر کج کلاہ نے دیکھا نہیں مجھے میں دیکھتا تھا رنگ بدلتی ہوئی نگاہ بدلی ہوئی نگاہ نے دیکھا نہیں مجھے میری صدا وہاں پہ تجھے کیسے ڈھونڈتی تیری جہاں پناہ نے دیکھا نہیں ...

مزید پڑھیے

بلند پیڑوں کے سبز پتوں میں سطح دریا کی سلوٹوں پر

بلند پیڑوں کے سبز پتوں میں سطح دریا کی سلوٹوں پر ہوا کے جھونکوں سے دھوپ کے جھلملاتے تارے تھرک رہے ہیں خنک ہوا جیسے کانچ کی تیز کرچیں رگ رگ کو چیرتی ہیں خنک ہوا جیسے تلخ مے کائنات کے جسم میں رواں ہے یہ کشتیاں برف سے ڈھکی نیلی چوٹیوں پر نظر جمائے ہوا سے ٹکراتی سرد پانی کو کاٹتی ...

مزید پڑھیے

ہابیل

اولیں ذائقۂ خوں سے تھی لب تلخ وہ خاک جس پہ میں ٹوٹی ہوئی شاخ کے مانند گرا کن شراروں کی دہک دیدۂ قابیل میں تھی وہ حسد تھا کہ ہوس طیش کہ نفرت کیا تھا اور پھر میرے بدن میرے لہو میں اترا اولیں بے بسیٔ کرب فنا کا ادراک بجھ گئی شمع نظر مٹ گئے آواز کے نقش بوئے گل، جوئے صبا، نجم سحر کچھ ...

مزید پڑھیے

کسک

ترے دل میں غلطاں ہو گر وہ انوکھی کسک کہ جس کے سبب تجھ کو ہر شے پکارے، کہے: مجھے دیکھ میری طرف آ مجھے پیار کر تو لپکے تو ہر چیز تجھ سے کھنچے دور دور ترے دل میں ہو موج در موج اک سیل درد مگر تو نہ سمجھے کشش کیا ہے دوری ہے کیوں فقط وہ انوکھی خلش دل میں غلطاں رہے ہواؤں کے ہاتھوں میں بیتاب ...

مزید پڑھیے

پیغام

اب کہ اک عمر کی محرومی سے دل نے سمجھوتہ سا کر رکھا تھا اب کہ اس رت میں کسی پیڑ پہ پتا تھا نہ پھول اب کے ہر طرح کے دکھ کے لیے تیار تھا دل کس لیے سوکھی ہوئی شاخ پہ یہ شعلہ سی کونپل پھوٹی کس لیے تیرا یہ پیغام آیا

مزید پڑھیے

ادھوری

نخل نمو کی شاخ پہ جس دم نم کی آنچ کی سرشاری میں پنکھ اپنے پھیلا کر غنچہ پوری تاب سے کھل اٹھتا ہے رنگ اور خوشبو کی بانی میں ذات و حیات کے کتنے نکتے پورے وجود سے کہہ دیتا ہے یہ نہیں جانتا کیسے کیسے رت کے بھید ہوا کے تیور پھر بھی ان کہے رہ جاتے ہیں دیکھتے دیکھتے رنگ اور خوشبو آپ ہی ...

مزید پڑھیے

صبح سے شام تک

ایک شوخی بھری دوشیزۂ بلور جمال جس کے ہونٹوں پہ ہے کلیوں کے تبسم کا نکھار سیمگوں رخ سے اٹھائے ہوئے شب رنگ نقاب تیز رفتار اڑاتی ہوئی کہرے کا غبار افق شرق سے اٹھلاتی ہوئی آتی ہے مست آنکھوں سے برستا ہے صبوحی کا خمار پھول سے جسم پہ ہے شبنمی زرتار لباس کروٹیں لیتا ہے دل میں اسے چھونے ...

مزید پڑھیے

ٹائپسٹ

دن ڈھلا جاتا ہے ڈھل جائے گا کھو جائے گا ریگ اٹی درز سے در آئی ہے اک زرد کرن دیکھ کر میز کو دیوار کو الماری کو فائلوں، کاغذوں، بکھری ہوئی تحریروں کو پھر اسی درز سے گھبرا کے نکل جائے گی اور باہر وہ بھلی دھوپ، سنہری کرنیں جو کبھی ابر کے آغوش میں چھپ جاتی ہیں کبھی پیڑوں کے خنک سایوں ...

مزید پڑھیے

سنبھالا

تنہائی شکستہ پر سمیٹے آکاش کی وسعتوں پہ حیراں حسرت سے خلا میں تک رہی ہے یادوں کے سلگتے ابر پارے افسردہ دھوئیں میں ڈھل چکے ہیں پہنائے خیال کے دھندلکے اب تیرہ و تار ہو گئے ہیں آنسو بھی نہیں کہ رو سکوں میں یہ موت ہے زندگی نہیں ہے اب آئے کوئی مجھے اٹھا کر اس اونچے پہاڑ سے پٹک دے ہر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 173 سے 5858