KHalid Malik Sahil

خالد ملک ساحل

خالد ملک ساحل کے تمام مواد

20 غزل (Ghazal)

    اپنے آنسو ہیں تمہارے نہیں رو سکتا میں

    اپنے آنسو ہیں تمہارے نہیں رو سکتا میں آج آنکھوں سے ستارے نہیں رو سکتا میں ایک تکلیف کا دریا ہے بدن میں لیکن بیٹھ کر اس کے کنارے نہیں رو سکتا میں میں ہوں مجذوب مرے دل کی حقیقت ہے الگ لاکھ ہوتے ہوں خسارے نہیں رو سکتا میں جسم ہے روح کی حدت میں پگھلنے والا ہوں شرابور شرارے نہیں رو ...

    مزید پڑھیے

    جواب جس کا نہیں کوئی وہ سوال بنا

    جواب جس کا نہیں کوئی وہ سوال بنا میں خواب میں اسے دیکھوں کوئی خیال بنا میں اعتراف کے موسم میں چپ نہیں رہتا مرے خدا مری ہستی کے خد و خال بنا وہ کون ہے جو مری ہجرتوں سے ٹوٹ گیا وہ کون شخص ہے جو آئینہ مثال بنا وہ کس کے دھیان میں آیا تھا موسموں کی طرح وہ کون ہے جو مری سوچ کا خیال ...

    مزید پڑھیے

    جنوں کا کوئی فسانہ تو ہاتھ آنے دو

    جنوں کا کوئی فسانہ تو ہاتھ آنے دو میں رو پڑوں گا بہانہ تو ہاتھ آنے دو میں اپنی ذات کے روشن کروں گا ویرانے قبولیت کا زمانہ تو ہاتھ آنے دو میں روپ اور سنواروں گا داستانوں کے کسی کا قصہ پرانا تو ہاتھ آنے دو مری نظر میں زمانے کی کج ادائی ہے نشاں بہت ہیں نشانہ تو ہاتھ آنے دو خرید ...

    مزید پڑھیے

    کچھ دل کا تعلق تو نبھاؤ کہ چلا میں

    کچھ دل کا تعلق تو نبھاؤ کہ چلا میں یا ٹوٹ کے آواز لگاؤ کہ چلا میں درپیش مسافت ہے کسی خواب نگر کی اک دیپ مرے پاس جلاؤ کہ چلا میں اس شہر کے لوگوں پہ بھروسا نہیں کرنا زنجیر کوئی در پہ لگاؤ کہ چلا میں تا دل میں تمھارے بھی نہ احساس وفا ہو جی بھر کے مجھے آج ستاؤ کہ چلا میں مشتاق ...

    مزید پڑھیے

    بڑے جتن سے بڑے سوچ سے اتارا گیا

    بڑے جتن سے بڑے سوچ سے اتارا گیا مرا ستارا سر خاک بھی سنوارا گیا مری وفا نے جنوں کا حساب دینا تھا سو آج مجھ کو بیابان سے پکارا گیا بس ایک خوف تھا زندہ تری جدائی کا مرا وہ آخری دشمن بھی آج مارا گیا مجھے یقین تھا اس تجربے سے پہلے بھی سنا ہے غیر سے جلوہ نہیں سہارا گیا سجا دیا ہے ...

    مزید پڑھیے

تمام

6 نظم (Nazm)

    دن رات

    جاگتے خیالوں کو، سوچتے سوالوں کو رتجگے کی عادت ہے عاشقی کی فطرت ہے تجھ کو نیند پیاری ہے تجھ پہ رات بھاری ہے نیند موت ہوتی ہے خواب کی، خیالوں کی زندگی کے سالوں کی تجھ کو ہر خبر جاناں! میری رات جلنے سے میرے سوچ کھلنے سے تیرا دن نکلتا ہے

    مزید پڑھیے

    پاگل ہوش

    جب درد کی لہریں ڈوب گئیں جب آنکھیں چہرہ بھول گئیں تم سوچ کے آنگن میں کیسے پھر یاد کے گھنگرو لے آئے میں کیسی مہک سے پاگل ہوں پھر رقص جنوں میں شامل ہوں پھر چہرہ چہرہ تیرا چہرہ پھر آنکھ میں تیری آنکھوں کا پر کیف نظارہ جھوم اٹھا پھر سارا زمانہ جھوم اٹھا کب رات گئی کب دن جاگا کچھ ہوش ...

    مزید پڑھیے

    وہم یقین

    میرے گھر کے ہر کمرے میں ایک ہی چہرہ جھانک رہا ہے دیواروں پر عکس ہے اس کا دروازوں پر لمس ہے اس کا ہر آہٹ میں اس کی آہٹ ہر لمحے موجود ہے لیکن پھر بھی تیقن سوچ رہا ہے کون ہے میرے وہم کے گھر میں کون اندھیرے کھول رہا ہے، کون خموشی بول رہا ہے کس نے میرے درد کے دل کو ہاتھ کا مرہم بخش دیا ...

    مزید پڑھیے

    امید الجھن

    دور آنکھوں سے بہت دور، کہیں اک تصور ہے، جو بے زار کیے رکھتا ہے وہ کوئی خواب ہے یا خواب کا اندیشہ ہے جو مرے سوچ کو مسمار کیے رکھتا ہے دور، قسمت کی لکیروں سے بہت دور، کہیں ایک چہرہ ہے، ترے چہرے سے ملتا جلتا جو مجھے نیند میں بے دار کیے رکھتا ہے دور سے، اور بہت دور کی آوازوں سے ایک آواز ...

    مزید پڑھیے

    خواب

    بہت دنوں سے اداس ہے دل بہت دنوں سے میں رو رہا ہوں مرا اثاثہ تو خواب تھے پر میں گہری نیندوں میں سو رہا ہوں میں ایک کردار بن گیا ہوں میں داستانوں میں کھو رہا ہوں یہ کیسا موسم ہے میرے دل میں گلوں میں کانٹے پرو رہا ہوں میں صاف ستھرا لباس لے کر گلی کے پانی سے دھو رہا ہوں میں اپنی حیرت کی ...

    مزید پڑھیے

تمام