Meer Asar

میر اثر

میر اثر کے تمام مواد

36 غزل (Ghazal)

    تیرے آنے کا احتمال رہا

    تیرے آنے کا احتمال رہا مرتے مرتے یہی خیال رہا غم ترا دل سے کوئی نکلے ہے آہ ہر چند میں نکال رہا ہجر کے ہاتھ سے ہیں سب روتے یاں ہمیشہ کسے وصال رہا شمع ساں جلتے ہلتے کاٹی عمر جب تلک سر رہا وبال رہا مل گئے خاک میں ہی طفل سرشک میں تو آنکھوں میں گرچہ پال رہا سمجھئے اس قدر نہ کیجے ...

    مزید پڑھیے

    دیکھ کر دل کو پیچ و تاب کے بیچ

    دیکھ کر دل کو پیچ و تاب کے بیچ آ پڑا مفت میں عذاب کے بیچ کون رہتا ہے تیرے غم کے سوا اس دل خانماں خراب کے بیچ تیرے آتش زدوں نے مثل شرار عمر کاٹی ہے اضطراب کے بیچ کیا کہوں تجھ سے اب کے میں تجھ کو کس طرح دیکھتا ہوں خواب کے بیچ شمع فانوس میں نہ جب کے چھپے کب چھپے ہے یہ منہ نقاب کے ...

    مزید پڑھیے

    ہم ہیں بے دل دل اپنے پاس نہیں

    ہم ہیں بے دل دل اپنے پاس نہیں آہ اس کا بھی تجھ کو پاس نہیں بے وفا کچھ نہیں تری تقصیر مجھ کو میری وفا ہی راس نہیں قتل میرا ہے تیری بد نامی جان کا ورنہ کچھ ہراس نہیں تو ہی بہتر ہے ہم سے آئینے ہم تو اتنے بھی روشناس نہیں یوں خدا کی خدائی برحق ہے پر اثرؔ کی ہمیں تو آس نہیں

    مزید پڑھیے

    جوں گل تو ہنسے ہے کھل کھلا کر

    جوں گل تو ہنسے ہے کھل کھلا کر شبنم کی طرح مجھے رلا کر مہمان ہو یا کہ یاں تو آ کر یا رکھ مجھے اپنے ہاں بلا کر در پر تیرے ہم نے خاک چھانی نقد دل خاک میں ملا کر مانوس نہ تھا وہ بت کسو سے ٹک رام کیا خدا خدا کر کن نے کہا اور سے نہ مل تو پر ہم سے بھی کبھو ملا کر گو زیست سے ہیں ہم آپ ...

    مزید پڑھیے

    کسو کو مجھ سے نے مجھ کو کسو سے کام رہتا ہے

    کسو کو مجھ سے نے مجھ کو کسو سے کام رہتا ہے مرے دل میں سوا تیرے خدا کا نام رہتا ہے کچھ ان روزوں دل اپنا سخت بے آرام رہتا ہے اسی حالت میں لے کر صبح سے تا شام رہتا ہے کلیجہ پک گیا ہے کیا کہوں اس دل کے ہاتھوں سے ہمیشہ کچھ نہ کچھ اس میں خیال خام رہتا ہے بیاں میں کیا کروں اس سے اب آگے ...

    مزید پڑھیے

تمام