Meer Mohammadi Bedar

میر محمدی بیدار

  • 1732 - 1796

میر محمدی بیدار کے تمام مواد

50 غزل (Ghazal)

    دور سے بات خوش نہیں آتی

    دور سے بات خوش نہیں آتی یوں ملاقات خوش نہیں آتی تجھ بن اے ماہ رو کبھی مجھ کو چاندنی رات خوش نہیں آتی جائے بوسہ کے گالیاں دیجے یہ عنایات خوش نہیں آتی نہ مے و جام ہے نہ ساقی ہے ایسی برسات خوش نہیں آتی اس کے مذکور کے سوا بیدارؔ اور کچھ بات خوش نہیں آتی

    مزید پڑھیے

    مت پوچھ تو جانے دے احوال کو فرقت کے

    مت پوچھ تو جانے دے احوال کو فرقت کے جس طور کٹے کاٹے ایام مصیبت کے جی میں ہے دکھا دیجے یک روز ترے قد کو جو شخص کہ منکر ہیں اے یار قیامت کے کہتا ہوں غلط تجھ سے میں دل کو چھڑاؤں گا چھٹتے ہیں کہیں پیارے باندھے ہوئے الفت کے قصر و محل منعم تجھ کو ہی مبارک ہوں بیٹھے ہیں ہم آسودہ گوشہ ...

    مزید پڑھیے

    کیوں نہ لے گلشن سے باج اس ارغواں سیما کا رنگ

    کیوں نہ لے گلشن سے باج اس ارغواں سیما کا رنگ گل سے ہے خوش رنگ تر اس کے حنائی پا کا رنگ جوں ہی منہ پر سے اٹھا دی باغ میں آ کر نقاب اڑ گیا رنگ چمن دیکھ اس رخ زیبا کا رنگ سر پہ دستار بسنتی بر میں جامہ قرمزی کھب گیا دل میں ہمارے اس گل رعنا کا رنگ آج ساقی دیکھ تو کیا ہے عجب رنگین ہوا سرخ ...

    مزید پڑھیے

    انجمن ساز عیش تو ہے یہاں

    انجمن ساز عیش تو ہے یہاں اور پھر کس کی آرزو ہے یہاں من و تو کی نہیں ہے گنجائش حرف وحدت کی گفتگو ہے یہاں کام کیا شمع کا ہے لے جاؤ دل بر آفتاب رو ہے یہاں دل میں اپنے نہیں کچھ اور تلاش ایک تیری ہی جستجو ہے یہاں دست بوسی کو تیری اے ساقی منتظر ساغر اور سبو ہے یہاں آ شتابی کہ ہے مکان ...

    مزید پڑھیے

    عاشق نہ اگر وفا کرے گا (ردیف .. ')

    عاشق نہ اگر وفا کرے گا پھر اور کہو تو کیا کرے گا مت توڑیو دل صنم کسی کا اللہ ترا بھلا کرے گا ہے عالم خواب حال دنیا دیکھے گا جو چشم وا کرے گا جیتا نہ بچے گا کوئی ظالم ایسی ہی جو تو ادا کرے گا کل کے تو کئی پڑے ہیں زخمی کیا جانیے آج کیا کرے گا آ جائے گا سامنے تو جس کے دل کیا ہے کہ جی ...

    مزید پڑھیے

تمام