کہیں پر شادمانی ہے کہیں پر نوحہ خوانی ہے
کہیں پر شادمانی ہے کہیں پر نوحہ خوانی ہے
جو سچ پوچھو حقیقت میں یہی تو زندگانی ہے
جو سورج آسمانی ہے اسی سے زندگانی ہے
وہ جب تک غیر فانی ہے تو ہر شے جاودانی ہے
جسے تم روح کہتے ہو اسے دل بھی تو کہتے ہیں
وہی ہے آتما سب کی ازل سے جاودانی ہے
کسی سے دشمنی تیری کسی سے دوستی تیری
کسی سے بے رخی ہے تو کسی سے خوش بیانی ہے
نہیں حاکم کو کچھ پروا کہ ہے محکوم کس غم میں
ہے ہاہا کار ہرسو ہر طرف چھائی گرانی ہے
انوکھا ہے طریقہ وعظ کا تیرے بھی اے واعظ
کسی سے تو ہے آزردہ کسی پر مہربانی ہے
در محبوب سے آیا ہے خالی نامہ بر اپنا
نہ ہے تحریر ہی میں کچھ نہ پیغام زبانی ہے
یہاں فانی ہے ہر اک شے فنا سب کا مقدر ہے
حقیقت میں اسی کی ذات کندنؔ جاودانی ہے