حسن والوں میں سدا خوئے جفا پائی گئی
حسن والوں میں سدا خوئے جفا پائی گئی
نازنینوں میں مگر خوئے ادا پائی گئی
ہو گئی چارہ گری چارہ گروں کی بے اثر
ہاں فقیروں کی زبانوں پر دعا پائی گئی
راہ حق میں جان جو ہنس کر فدا اپنی کریں
ان شہیدوں ہی میں تو خوئے وفا پائی گئی
ہوتی ہے ہر ایک دل میں یوں تو جینے کی تڑپ
نوجوانوں میں مگر یہ خو سوا پائی گئی
حسن تیرا ہو گیا ہے بڑھ کے حسن یوسفی
آنکھوں میں جب بھی تری شرم و حیا پائی گئی
نیک کاموں کا صلہ ملتا ہے عقبیٰ میں مگر
نیک کاموں کی یہاں بھی تو جزا پائی گئی
عشق والوں کا حقیقت میں ہے اک اپنا وقار
حسن والوں میں بھی کندنؔ خاص ادا پائی گئی