Mohammad Ali Jauhar

محمد علی جوہرؔ

ہندوستان کی تحریک آزادی کے اہم رہنما

One of the prominent leaders of indian freedom movement.

محمد علی جوہرؔ کے تمام مواد

15 غزل (Ghazal)

    تنہائی کے سب دن ہیں تنہائی کی سب راتیں

    تنہائی کے سب دن ہیں تنہائی کی سب راتیں اب ہونے لگیں ان سے خلوت میں ملاقاتیں ہر آن تسلی ہے ہر لحظہ تشفی ہے ہر وقت ہے دل جوئی ہر دم ہیں مداراتیں معراج کی سی حاصل سجدوں میں ہے کیفیت اک فاسق و فاجر میں اور ایسی کراماتیں بیٹھا ہوا توبہ کی تو خیر منایا کر ٹلتی نہیں یوں جوہرؔ اس دیس کی ...

    مزید پڑھیے

    عرش تک جو بے خطا جاتا ہے یہ وہ تیر ہے

    عرش تک جو بے خطا جاتا ہے یہ وہ تیر ہے غیر سمجھا ہے کہ میری آہ بے تاثیر ہے خوگر قید وفا پر کھل چکا زنداں کا راز جرم تھی وہ قید یہ اس جرم کی تعزیر ہے بے گناہی سے بھی بڑھ کر ہے اگر کوئی گناہ تو سزائے عشق پا کر خجلت تقصیر ہے چھوڑ میری فکر غافل رو خود اپنی قید پر جس کو تو زیور سمجھتا ہے ...

    مزید پڑھیے

    دل کو ہلاک جلوۂ جاناں بنائیے

    دل کو ہلاک جلوۂ جاناں بنائیے اس بت کدے کو کعبۂ ایماں بنائیے طوفان بن کے اٹھیے جہان خراب میں ہستی کو اک شرارۂ رقصاں بنائیے دوڑائیے وہ روح کہ ہر ذرہ جاگ اٹھے اجڑے ہوئے وطن کو گلستاں بنائیے پھر دیجئے نگاہ کو پیغام جستجو منزل سے کیوں نظر کو گریزاں بنائیے آخر تو ختم ہوں گی کہیں ...

    مزید پڑھیے

    خوگر جور پہ تھوڑی سی جفا اور سہی

    خوگر جور پہ تھوڑی سی جفا اور سہی اس قدر ظلم پہ موقوف ہے کیا اور سہی خوف غماز عدالت کا خطر دار کا ڈر ہیں جہاں اتنے وہاں خوف خدا اور سہی عہد اول کو بھی اچھا ہے جو پورا کر دو تم وفادار ہو تھوڑی سی وفا اور سہی جس نے ہنگامہ عدالت کا تری دیکھا ہے اس گنہ گار کو اک روز جزا اور سہی کشور ...

    مزید پڑھیے

    گلہ اے دل ابھی سے کرتا ہے

    گلہ اے دل ابھی سے کرتا ہے عشق کا دم اسی پہ بھرتا ہے جان دیتا ہے عیش فانی پر بس اسی زندگی پہ مرتا ہے راحت جاوداں کو بھول گیا کوئی دنیا میں یہ بھی کرتا ہے عشق بن کر جئے تو خاک جیے زندہ وہ ہے جو ان پہ مرتا ہے نام پر اس کے سب جو دے بیٹھا وہی اک ہے جو نام کرتا ہے وقف مومن ہے آزمائش ...

    مزید پڑھیے

تمام