اک نئے مسئلے سے نکلے ہیں کامی شاہ 07 ستمبر 2020 شیئر کریں اک نئے مسئلے سے نکلے ہیں یہ جو کچھ راستے سے نکلے ہیں کاغذی ہیں یہ جتنے پیراہن ایک ہی سلسلے سے نکلے ہیں لے اڑا ہے ترا خیال ہمیں اور ہم قافلے سے نکلے ہیں یاد رہتے ہیں اب جو کام ہمیں یہ اسے بھولنے سے نکلے ہیں