ہم چہرۂ زنار کو پوجا نہیں کرتے
ہم چہرۂ زنار کو پوجا نہیں کرتے
یعنی دل خوددار کو رسوا نہیں کرتے
ہم دامن پندار کو میلا نہیں کرتے
اجداد کے کردار کو بیچا نہیں کرتے
اے اہل وطن آپ سے اتنی ہے گزارش
سینچے ہوئے گلزار کو روندا نہیں کرتے
کشتی کو کنارے پہ لے آنا ہی بہت ہے
گرداب ضرر بار کو روکا نہیں کرتے
تخریب ہی تعمیر کی بنیاد ہے یارو
اجڑے ہوئے گھر بار کو رویا نہیں کرتے
گلزار کے پھولوں کی حفاظت ہے عبادت
راہیؔ تو کبھی خار کو سینچا نہیں کرتے