حادثوں سے کھیلنا میرے لیے مشکل نہ تھا

حادثوں سے کھیلنا میرے لیے مشکل نہ تھا
اے مسیح فتنہ گر لیکن سکون دل نہ تھا


جس میں آئے تھے کفن بردوش چہرے شوق سے
زندگی افسوس میں اس بزم میں شامل نہ تھا


گفتگو کرتے تھے وہ بھی شیش محلوں کی وہاں
جن کو رہنے کے لئے ٹوٹا مکاں حاصل نہ تھا


مجھ پہ بھی الزام لوگوں نے لگایا قتل کا
قاتلوں کے شہر میں حالانکہ میں قاتل نہ تھا


وقت کا رہبر نما قزاق تھا ہر آئینہ
سچ ہے وہ کیفیؔ تمہارے شہر کا عامل نہ تھا