محفوظ کیفی کے تمام مواد

2 غزل (Ghazal)

    حادثہ قہر و غضب تیغ و تبر لے لینا

    حادثہ قہر و غضب تیغ و تبر لے لینا موت کا شہر ہے جینے کا ہنر لے لینا کون جانے کہ شب تار ڈھلے یا نہ ڈھلے دل کے زخموں ہی سے تسکین سحر لے لینا تنہا اس شہر میں نکلو گے تو لٹ جاؤ گے کون ہمدرد کوئی اہل سفر لے لینا میرے کردار کو آئینہ دکھانے والو جائزہ اپنے بھی دامن کا مگر لے لینا آج لے ...

    مزید پڑھیے

    حادثوں سے کھیلنا میرے لیے مشکل نہ تھا

    حادثوں سے کھیلنا میرے لیے مشکل نہ تھا اے مسیح فتنہ گر لیکن سکون دل نہ تھا جس میں آئے تھے کفن بردوش چہرے شوق سے زندگی افسوس میں اس بزم میں شامل نہ تھا گفتگو کرتے تھے وہ بھی شیش محلوں کی وہاں جن کو رہنے کے لئے ٹوٹا مکاں حاصل نہ تھا مجھ پہ بھی الزام لوگوں نے لگایا قتل کا قاتلوں کے ...

    مزید پڑھیے