حادثہ قہر و غضب تیغ و تبر لے لینا
حادثہ قہر و غضب تیغ و تبر لے لینا موت کا شہر ہے جینے کا ہنر لے لینا کون جانے کہ شب تار ڈھلے یا نہ ڈھلے دل کے زخموں ہی سے تسکین سحر لے لینا تنہا اس شہر میں نکلو گے تو لٹ جاؤ گے کون ہمدرد کوئی اہل سفر لے لینا میرے کردار کو آئینہ دکھانے والو جائزہ اپنے بھی دامن کا مگر لے لینا آج لے ...