غم نہ کر غم کی سیہ رات بدل سکتی ہے
غم نہ کر غم کی سیہ رات بدل سکتی ہے
جو بھی ہو صورت حالات بدل سکتی ہے
وعدۂ وصل پہ میں خوش تو ہوا ہوں لیکن
یہ بھی خدشہ ہے کہ وہ بات بدل سکتی ہے
میں ترے ناز اٹھانے پہ رضامند مگر
تو مرے واسطے عادات بدل سکتی ہے
میں نے مانا مری وقعت نہیں کچھ بھی لیکن
تو جو مل جائے تو اوقات بدل سکتی ہے
میں تجھے دل میں بسا لوں مگر اتنا تو بتا
تو خوشی میں مرے صدمات بدل سکتی ہے
اس لیے بھی میں روایات کا قائل نہ ہوا
یہ ہے دنیا یہ روایات بدل سکتی ہے