دکھلائیں کس مزے سے اب کے بہار ہولی

دکھلائیں کس مزے سے اب کے بہار ہولی
کھیلے ہیں سب جمع ہو کیا گلعذار ہولی


ساری پری رخاں مل کیسی مچائیں دھومیں
رنگ زرد سرخ لے کر کھیلیں نگار ہولی


سونے کی تھالیوں میں رکھ کر عبیر و ابرک
بھر موٹھیاں میں پھینکے کر کے پکار ہولی


شیشوں میں زعفراں کا رنگ شباب بھر کر
اوپر سے قہقہوں کے ہے بار بار ہولی