بوند میں کیسے چھپا رہتا ہے ساگر دیکھو

بوند میں کیسے چھپا رہتا ہے ساگر دیکھو
اپنے احساس کے دریا میں اتر کر دیکھو


روتی پھرتی ہے وفا عشق میں در در دیکھو
کتنے زیادہ ہیں زمانے میں ستم گر دیکھو


کیسے آیا ہے میرے سر پہ یہ چھپر دیکھو
میرے پاپا کی ہتھیلی کو بھی پڑھ کر دیکھو


سر پہ مالک کے نئے کپڑے کی چادر دیکھو
ساری دنیا کو بنا کر اسے بے گھر دیکھو


سخت کوشش تھی مری تم رہو دل میں میرے
کیسے بکھرا ہے ترے غم میں میرا گھر دیکھو


تیری دنیا میں سبھی ایک برابر لیکن
روشنی سب کو نہیں ملتی برابر دیکھو


میں تیرے عشق میں بے بات فنا ہو بیٹھا
کام آیا نہ ترے در کے میرا سر دیکھو


بھاونا کون سی تھی اس کو میں سمجھا ہی نہیں
شاعری چومتی ہے ستہ کی ٹھوکر دیکھو


دیکھ کر میری نگاہوں کی طلب کو یارو
پانی پانی ہوا جاتا ہے سمندر دیکھو


مجھ سے ہوتا تو نہیں تیرا بیاں عشق کبھی
لوگ کہنے نہ لگے مجھ کو سخنور دیکھو


ساری دنیا سے فریبوں سے اداکاری سے
جل نہ جائے کہیں احساس کا منظر دیکھو