مسکراہٹ ہی صدا ملتی خطا کے سامنے
مسکراہٹ ہی صدا ملتی خطا کے سامنے ساری دنیا چھوٹی ہے ماں کی دعا کے سامنے چھت نہیں ملتی ہے جن کو ایک اونچائی کے بعد گر بھی جاتی ہیں وہ دیواریں ہوا کے سامنے صرف وہ ہی ڈھک سکے گا اپنی خودداری کا سر دولتیں پیاری نہیں جس کو انا کے سامنے جن کی دہشت سے ستم سے جل رہا سارا جہاں وہ بھلا ...