Mahendra Partap Chand

مہندر پرتاپ چاند

مہندر پرتاپ چاند کے تمام مواد

18 غزل (Ghazal)

    رنجشوں نے جذبۂ اخلاص گرمایا بھی ہے

    رنجشوں نے جذبۂ اخلاص گرمایا بھی ہے دوستی میں ہم نے کچھ کھویا ہے کچھ پایا بھی ہے اک ذرا سی بات پر کیوں کر تعلق توڑ دوں وہ پرانا یار بھی ہے میرا ہمسایہ بھی ہے اس طرف دیکھا تو ہے بے شک حقارت سے سہی شکر ہے اتنا کرم تو اس نے فرمایا بھی ہے یوں تو کچھ قیمت نہیں جنس وفا کی ہاں مگر جس قدر ...

    مزید پڑھیے

    ترے خیال نے احسان لا جواب کیا

    ترے خیال نے احسان لا جواب کیا نفس نفس کو مرے وقف اضطراب کیا عدو کا حرف ملامت بنا مری شہرت اسی نے خاک کے ذرے کو آفتاب کیا تری نظر کو نظر لگ نہ جائے دنیا کی بھرے جہاں میں جو میرا ہی انتخاب کیا قدم قدم پہ رہی جستجوئے نام و نمود اسی ہوس نے ہمیں عمر بھر خراب کیا ازل کے دن سے اندھیرے ...

    مزید پڑھیے

    اشعار کی تخلیق میں جلتا ہے جگر کیوں

    اشعار کی تخلیق میں جلتا ہے جگر کیوں یا رب مجھے بخشا ہے یہ جاں سوز ہنر کیوں غم عشق کی سوغات ہے سینے سے لگا لے پھولوں کی تمنا ہے تو کانٹوں سے حذر کیوں کچھ حد سے سوا ہیں مرے غم خوار وگرنہ رہتی ہے مرے حال پہ یاروں کی نظر کیوں کل جس کو سر آنکھوں پر بٹھاتا تھا زمانہ بیٹھا ہے سر راہ وہ ...

    مزید پڑھیے

    زباں کا پاس ہے تو قول سب نبھانے ہیں

    زباں کا پاس ہے تو قول سب نبھانے ہیں اگر مکرنے پہ آؤں تو سو بہانے ہیں تیر نگاہ کے رستے سبھی نئے ہیں مگر ہمارے طور طریقے سبھی پرائے ہیں نہ راس آئی ہمیں آپ کی ادا کوئی ستم ہے اس پہ کہ ہم آپ کے دوانے ہیں یہ کیا کہ حوصلہ تم نے ابھی سے ہار دیا ابھی تو وقت نے کچھ اور گل کھلانے ہیں سیاہ ...

    مزید پڑھیے

    ہمارے شہر ادب میں چلی ہوا کیا ہے

    ہمارے شہر ادب میں چلی ہوا کیا ہے یہ کیسا دور ہے یا رب ہمیں ہوا کیا ہے اسی نے آگ لگائی ہے ساری بستی میں وہی یہ پوچھ رہا ہے کہ ماجرا کیا ہے یہ تیرا ظرف کہ تو پھر بھی بد گماں نہ ہوا سوائے درد کے میں نے تجھے دیا کیا ہے لپک کے چھین لے حق اپنا کم سوادوں سے بڑھا کے ہاتھ اٹھا جام دیکھتا ...

    مزید پڑھیے

تمام