نگاہ بد گماں ہے اور میں ہوں
نگاہ بد گماں ہے اور میں ہوں فریب آشیاں ہے اور میں ہوں شریک بے کسی آئے کہاں سے زمیں پر آسماں ہے اور میں ہوں ادھر کیا گھورتی ہے کسمپرسی مرا عزم جواں ہے اور میں ہوں سراپا گوش ہے صبح شب تار کسی کی داستاں ہے اور میں ہوں گھٹا جاتا ہے دم اے سوز احساس تہہ دامن دھواں ہے اور میں ...