Syed Sajjad

سید سجاد

سید سجاد کی نظم

    وہ عورت

    میں نے اس عورت کا جسم بستر بند میں لپیٹ دیا بستر بند کو ریلوے اسٹیشن کے مال گودام میں رکھوا دیا سامان کی رسید کو اپنی بلی کے دودھ میں ڈال دیا جو اس کاغذ کے سارے لفظ چاٹ گئی میں نے کمرے میں بکھرا لہو سمیٹ کر دلہنوں کی مانگ میں بھر دیا اس کے کپڑے چھیتھڑے بنا کر مزاروں کے درختوں پر ...

    مزید پڑھیے