Sher Afzal Jafri

شیر افضل جعفری

  • 1909 - 1989

شیر افضل جعفری کے تمام مواد

16 غزل (Ghazal)

    ٹہنیاں پھولوں کو ترسیں گی یہاں تیرے بعد

    ٹہنیاں پھولوں کو ترسیں گی یہاں تیرے بعد وادیٔ جھنگ سے اٹھے گا دھواں تیرے بعد لاڈلے شیشموں کی بھاگ بھری شاخوں سے کونپلیں پھوٹیں گی بن بن کے فغاں تیرے بعد دھندلی دھندلی نظر آئیں گی سہانی راتیں ہچکیاں لے گا ''ترمّوں'' کا سماں تیرے بعد ناگ بن جائیں گی پانی کی شرابی لہریں آگ ...

    مزید پڑھیے

    یہ بجھے بجھے ستارے یہ دھواں دھواں سویرا

    یہ بجھے بجھے ستارے یہ دھواں دھواں سویرا کہیں آبرو کو ڈس لے نہ یہ باؤلا اندھیرا تری ناگ ناگ زلفیں کہیں رام ہو نہ جائیں کہ اٹھا ہے بین لے کے زر و مال کا سپیرا مرے شیشموں کی چھاؤں میں ہیں دھوپ کے ٹھکانے مری ندیوں کی لہروں میں ہے آگ کا بسیرا وہیں میں نے آرزوؤں کے حسیں دیئے ...

    مزید پڑھیے

    وقت آفاق کے جنگل کا جواں چیتا ہے

    وقت آفاق کے جنگل کا جواں چیتا ہے میری دنیا کے غزالوں کا لہو پیتا ہے عشق نے مر کے سوئمبر میں اسے جیتا ہے دل سری رام ہے دلبر کی رضا سیتا ہے اب بھی گھنشیام ہے اس دشت کا بوٹا بوٹا برگ نے آج بھی انساں کے لیے گیتا ہے جگمگاتی رہی اشکوں سے شب تار حیات دیپ مالا کی طرح دور الم بیتا ...

    مزید پڑھیے

    نطق پلکوں پہ شرر ہو تو غزل ہوتی ہے

    نطق پلکوں پہ شرر ہو تو غزل ہوتی ہے آستیں آگ سے تر ہو تو غزل ہوتی ہے ہجر میں جھوم کے وجدان پہ آتا ہے نکھار رات سولی پہ بسر ہو تو غزل ہوتی ہے کوئی دریا میں اگر کچے گھڑے پر تیرے ساتھ ساتھ اس کے بھنور ہو تو غزل ہوتی ہے مدت عمر ہے مطلوب ریاضت کے لیے زندگی بار دگر ہو تو غزل ہوتی ...

    مزید پڑھیے

    قدر کی رات بڑی پیاری ہے

    قدر کی رات بڑی پیاری ہے دن اسی رین کا درباری ہے مری آواز پہ مرکی مرکی لحن داؤد کی سرداری ہے رنگ لائے گی یہ اک دن آخر مری فریاد بھی پچکاری ہے اس ببر مرد کی اللہ رے قضا جس پہ اللہ نے رضا واری ہے طور بجلی کی جواں سال کڑک نور کی ریشمیں کلکاری ہے داغ کہتے ہیں جسے کملے کوی وہ تو ...

    مزید پڑھیے

تمام