Raees Ansari

رئیس انصاری

رئیس انصاری کی غزل

    تمام پھول سے چہروں کی سرخیاں اڑ جائیں

    تمام پھول سے چہروں کی سرخیاں اڑ جائیں اگر چمن سے یہ خوش رنگ تتلیاں اڑ جائیں وہ بے وفا بھی ہے مغرور بھی ہے پتھر بھی اسے تراشنے بیٹھوں تو چھینیاں اڑ جائیں یہ حوصلہ ہے ہمارا کہ اب بھی روشن ہیں ہوا کی زد پہ رہو تم تو ٹوپیاں اڑ جائیں بھرا ہوا ہے وہ بارود میرے سینے میں اگر کوئی مجھے ...

    مزید پڑھیے

    جو دیکھے تھے وہ سارے خواب رخصت ہو گئے ہیں

    جو دیکھے تھے وہ سارے خواب رخصت ہو گئے ہیں ہمارے سب ادب آداب رخصت ہو گئے ہیں یہ دنیا جس گھرانے کے سبب تو نے بنائی تری دنیا سے وہ بے آب رخصت ہو گئے ہیں نگہباں تھے جو ساحل پر ہماری کشتیوں کے وہ سب کے سب سر گرداب رخصت ہو گئے ہیں پڑا ہے جب قبیلے پر ہمارے وقت کوئی ہمارے معتبر احباب ...

    مزید پڑھیے

    نیند آنکھوں میں جو آتی تو جگانے لگتے

    نیند آنکھوں میں جو آتی تو جگانے لگتے خواب بچوں کی طرح شور مچانے لگتے رات کو گھر نہیں آتا تو مرے گھر والے صبح کے وقت مری خیر منانے لگتے تیرے آ جانے سے پھر آ گئی زخموں پہ بہار تو نہیں آتا تو سب زخم پرانے لگتے وہ ہمیں ڈھونڈھ کے اک رات میں گھر لے آیا ہم اسے ڈھونڈنے جاتے تو زمانے ...

    مزید پڑھیے

    ایک مدت سے تجھے دل میں بسا رکھا ہے (ردیف .. ن)

    ایک مدت سے تجھے دل میں بسا رکھا ہے میں تجھے یاد دہانی سے الگ رکھتا ہوں وہ سنے گا تو چھلک اٹھیں گی آنکھیں اس کی اس لیے خود کو کہانی سے الگ رکھتا ہوں وہ جو بچپن میں ترے ساتھ پڑھا کرتا تھا ان کتابوں کو نشانی سے الگ رکھتا ہوں تذکرہ اس کا غزل میں نہیں کرتا ہوں رئیسؔ میں اسے لفظ و ...

    مزید پڑھیے

    کوئی درخت کوئی سائباں رہے نہ رہے

    کوئی درخت کوئی سائباں رہے نہ رہے بزرگ زندہ رہیں آسماں رہے نہ رہے کوئی تو دے گا صدا حرف حق کی دنیا میں ہمارے منہ میں ہماری زباں رہے نہ رہے ہمیں تو پڑھنا ہے میدان جنگ میں بھی نماز مؤذنوں کے لبوں پر اذاں رہے نہ رہے ہمیں تو لڑنا ہے دنیا میں ظالموں کے خلاف قلم رہے کوئی تیر و کماں رہے ...

    مزید پڑھیے

    بیتے ہوئے لمحوں کو سوچا تو بہت رویا

    بیتے ہوئے لمحوں کو سوچا تو بہت رویا جب میں تری بستی سے گزرا تو بہت رویا پتھر جسے کہتے تھے سب لوگ زمانے میں کل رات نہ جانے کیوں رویا تو بہت رویا بچپن کا زمانہ بھی کیا خوب زمانہ تھا مٹی کا کھلونا بھی کھویا تو بہت رویا جو جنگ کے میداں کو اک کھیل سمجھتا تھا ہارے ہوئے لشکر کو دیکھا ...

    مزید پڑھیے

    وہ رنجشیں وہ مراسم کا سلسلہ ہی نہیں

    وہ رنجشیں وہ مراسم کا سلسلہ ہی نہیں یہاں کسی میں وہ پہلا سا رابطہ ہی نہیں میں خوشبوؤں کے تعاقب میں آ گیا ہوں وہاں جہاں سے لوٹ کے جانے کا راستا ہی نہیں یہ خود سری یا شرارت اسی کا حصہ ہے وہ کوئی کھیل محبت میں ہارتا ہی نہیں یہ اعتراف بھی گھبرا کے کر لیا میں نے میں چاہتا ہوں تجھے ...

    مزید پڑھیے