Qamar Javed

قمر جاوید

قمر جاوید کی نظم

    شوق سحر

    کب تک تیری بجھتی آنکھیں نیندوں سے بوجھل چوکھٹ میں ٹوٹتے تاروں گرتے چناروں کا اجڑا منظر دیکھیں گی یہ چوکھٹ تو گزرے پل کا روپ دکھا کر اس آفاق کی دور افتادہ سیڑھی میں گم ہو جائے گی جس کی آخری کھڑکی پھٹے پرانے کپڑوں کی ٹوٹی دوکان میں کھلتی ہے اس چوکھٹ سے باہر آ کر گھاس پہ ننگے پاؤں ...

    مزید پڑھیے