Qamar Jameel

قمر جمیل

قمر جمیل کی غزل

    ایک عجب شہزادہ میرے باغوں کا

    ایک عجب شہزادہ میرے باغوں کا دیکھو آیا موسم سرخ چراغوں کا ناچ رہی ہے ایک شجر پر ساری بہار اور یہاں بھی شور بہت ہے زاغوں کا دل کے اندر جھگڑا دیکھنے والوں میں دل کے اندر میلہ ایک چراغوں کا دیکھو اب بھی میرے محل میں رہتا ہے ایک عجب ویرانہ میرے داغوں کا

    مزید پڑھیے

    شام عجیب شام تھی جس میں کوئی افق نہ تھا

    شام عجیب شام تھی جس میں کوئی افق نہ تھا پھول بھی کیسے پھول تھے جن کو سخن کا حق نہ تھا یار عجیب یار تھا جس کے ہزار نام تھے شہر عجیب شہر تھا جس میں کوئی طبق نہ تھا ہاتھ میں سب کے جلد تھی جس کے عجیب رنگ تھے جس پہ عجیب نام تھے اور کوئی ورق نہ تھا جیسے عدم سے آئے ہوں لوگ عجیب طرح کے جن ...

    مزید پڑھیے

    ہم کہ مجنوں کو دعا کہتے ہیں

    ہم کہ مجنوں کو دعا کہتے ہیں روئے لیلیٰ کو صبا کہتے ہیں کتنی افسردہ ہے یہ شام بہار جس کو ہم تازہ ہوا کہتے ہیں اپنی آنکھوں میں نہ جانے کب کا خواب ہے جس کو خدا کہتے ہیں پھول میں اس کا لہو بہتا ہے چاند کو اس کی قبا کہتے ہیں انہی خوباں کی ہتھیلی پہ رہو اس لئے تم کو حنا کہتے ہیں ہم وہ ...

    مزید پڑھیے

    کس سفر میں ہیں کہ اب تک راستے نادیدہ ہیں

    کس سفر میں ہیں کہ اب تک راستے نادیدہ ہیں آسماں پہ شمعیں روشن ہیں مگر خوابیدہ ہیں کتنی نم ہے آنسوؤں سے یہ صنم خانے کی خاک یہ طواف گل کے لمحے کتنے آتش دیدہ ہیں یہ گلستاں ہے کہ چلتے ہیں تمناؤں کے خواب یہ ہوا ہے یا بیاباں کے قدم لرزیدہ ہیں ایک بستی عشق کی آباد ہے دل کے قریب لیکن اس ...

    مزید پڑھیے

    میں جنہیں فریب سمجھوں تری یاد مہرباں کے

    میں جنہیں فریب سمجھوں تری یاد مہرباں کے وہ چراغ بجھ گئے ہیں مری عمر جاوداں کے نہ یہ لالہ زار اپنے نہ یہ رہ گزار اپنی وہی گھر زمیں کے نیچے وہی خواب آسماں کے یہ پیالہ ہے کہ دل ہے یہ شراب ہے کہ جاں ہے یہ درخت ہیں کہ سائے کسی دست مہرباں کے مجھے یاد آ رہے ہیں وہ چراغ جن کے سائے کبھی ...

    مزید پڑھیے

    آج ستارے آنگن میں ہیں ان کو رخصت مت کرنا

    آج ستارے آنگن میں ہیں ان کو رخصت مت کرنا شام سے میں بھی الجھن میں ہوں تم بھی غفلت مت کرنا ہر آنگن میں دیئے جلانا ہر آنگن میں پھول کھلانا اس بستی میں سب کچھ کرنا ہم سے محبت مت کرنا اجنبی ملکوں اجنبی لوگوں میں آ کر معلوم ہوا دیکھنا سارے ظلم وطن میں لیکن ہجرت مت کرنا اس کی یاد میں ...

    مزید پڑھیے

    آسماں پر اک ستارہ شام سے بیتاب ہے

    آسماں پر اک ستارہ شام سے بیتاب ہے میری آنکھوں میں تمہارا غم نہیں ہے خواب ہے رات دریا آئینے میں اس طرح آیا کہ میں یہ سمجھ کر سو گیا دریا نہیں اک خواب ہے کامنی صورت میں بھی اک آرزو ہے محو خواب سانولی رنگت میں بھی اک وصل کا کمخواب ہے میری خاطر کچھ سنہری سانولی مٹی بھی تھی ورنہ اس ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2