Qamar Jalalabadi

قمر جلال آبادی

قمر جلال آبادی کی غزل

    با خبر تھا اک نظر میں دو جہاں لے جائے گا

    با خبر تھا اک نظر میں دو جہاں لے جائے گا میری جاں بن کر وہ اک دن میری جاں لے جائے گا آخری ہچکی سے پہلے چارہ گر سے پوچھ لوں جو نظر آتا نہیں رشتہ کہاں لے جائے گا مے کدہ دیر و حرم یا کوئی دوانوں کہ بزم تجھ سے یے بچھڑا ہوا لمحہ کہاں لے جائے گا وہ جو پچھلے سال سب کھیتوں کو سونا دے ...

    مزید پڑھیے

    یا رب ترے کرم سے یہ سودا کریں گے ہم

    یا رب ترے کرم سے یہ سودا کریں گے ہم دنیا میں پی کے خلد میں توبہ کریں گے ہم یوں رسم حسن و عشق کو رسوا کریں گے ہم تم منتظر رہو گے نہ آیہ کریں گے ہم آئینے میں خود اپنا تماشا کریں گے ہم یوں بھی شب فراق گزارہ کریں گے ہم جب تک نہ نظر آؤ گے ایسا کریں گے ہم ہر روز اک خدا کو تراشا کریں گے ...

    مزید پڑھیے

    وہ ستم گر ہے خیالات سمجھنے والا

    وہ ستم گر ہے خیالات سمجھنے والا مجھ سے پہلے مرے جذبات سمجھنے والا میں نے رکھا ہے ہمیشہ ہی تبسم لب پر رو دیا کیوں مرے حالات سمجھنے والا جو نہ سمجھے تیری منزل وہ یوں ہی چلتا رہا رک گیا تیرے مقامات سمجھنے والا جو نہ سمجھے وہ بناتے رہے لاکھوں باتیں ہوا خاموش تری بات سمجھنے ...

    مزید پڑھیے

    اک حسین لا جواب دیکھا ہے

    اک حسین لا جواب دیکھا ہے رات کو آفتاب دیکھا ہے گورا مکھڑا یے سرخ گال ترے چاندنی میں گلاب دیکھا ہے نرگسی آنکھ زلف شب رنگی بادلوں کا جواب دیکھا ہے جھومتے جام سا چھلکتا بدن ایک جام شراب دیکھا ہے ہم تو مل کر نہ مل سکے تم کو تم کو دیکھا کہ خواب دیکھا ہے

    مزید پڑھیے

    یہ درد ہجر اور اس پر سحر نہیں ہوتی

    یہ درد ہجر اور اس پر سحر نہیں ہوتی کہیں ادھر کی تو دنیا ادھر نہیں ہوتی نہ ہو رہائی قفس سے اگر نہیں ہوتی نگاہ شوق تو بے بال و پر نہیں ہوتی ستائے جاؤ نہیں کوئی پوچھنے والا مٹائے جاؤ کسی کو خبر نہیں ہوتی نگاہ برق علاوہ مرے نشیمن کے چمن کی اور کسی شاخ پر نہیں ہوتی قفس میں خوف ہے ...

    مزید پڑھیے

    آواز دے رہی ہے یے کس کی نظر مجھے

    آواز دے رہی ہے یے کس کی نظر مجھے شاید ملے کنارہ وہیں ڈوب کر مجھے چاہا تجھے تو خود سے محبت سی ہو گئی کھونے کے باد مل گئی اپنی خبر مجھے ہر ہر قدم پے ساتھ ہوں سایہ ہوں میں ترا اے بے وفا دکھا تو ذرا بھول کر مجھے دنیا کو بھول کر تری دنیا میں آ گیا لے جا رہا ہے کون ادھر سے ادھر ...

    مزید پڑھیے

    چھوٹی سی بے رخی پہ شکایت کی بات ہے

    چھوٹی سی بے رخی پہ شکایت کی بات ہے اور وہ بھی اس لئے کہ محبت کی بات ہے میں نے کہا کہ آئے ہو کتنے دنوں کے بعد کہنے لگے حضور یہ فرصت کی بات ہے میں نے کہا کی مل کے بھی ہم کیوں نہ مل سکے کہنے لگے حضور یہ قسمت کی بات ہے میں نے کہا کہ رہتے ہو ہر بات پر خفا کہنے لگے حضور یہ قربت کی بات ...

    مزید پڑھیے

    تیرے خوابوں میں محبت کی دہائی دوں گا

    تیرے خوابوں میں محبت کی دہائی دوں گا جب کوئی اور نہ ہوگا تو دکھائی دوں گا میری دنیا میں فقط ایک خدا کافی ہے دوستو کتنے خداؤں کو خدائی دوں گا دل کو میں قید قفس سے تو بچا لے آیا کب اسے قید نشیمن سے رہائی دوں گا کوئی انساں نظر آئے تو بلاؤ اس کو اسے اس دور میں جینے پہ بدھائی دوں ...

    مزید پڑھیے