Mohammad Yaqoob Aasi

محمد یعقوب آسی

محمد یعقوب آسی کی غزل

    آؤ کچھ ذکر روزگار کریں

    آؤ کچھ ذکر روزگار کریں دور حاضر کے غم شمار کریں اور بھی بوجھ ہیں اسی سر پر آرزوئیں کہاں سوار کریں آپ نقصان سہہ نہ پائیں گے آپ دل کا نہ کاروبار کریں ہم سے تو بے رخی نہیں ہوتی جو بھی چاہیں ہمارے یار کریں آبلہ پا پیام چھوڑ گئے لوگ نظارۂ بہار کریں ہے تقاضائے غیرت امروز زور بازو ...

    مزید پڑھیے

    جانے چلی ہے کیسی ہوا سارے شہر میں

    جانے چلی ہے کیسی ہوا سارے شہر میں سوچیں ہوئیں سروں سے جدا سارے شہر میں میری ہر ایک عرض ہے نا معتبر یہاں اس کا ہر ایک حکم روا سارے شہر میں سرگوشیاں ہیں اور جھکے سر ہیں خوف ہے سہمی ہوئی ہے خلق خدا سارے شہر میں بدلی مری نگاہ کہ چہرے بدل گئے کوئی بھی معتبر نہ رہا سارے شہر میں پندار ...

    مزید پڑھیے

    ہجوم غم سے مسرت کشید کرتے ہیں

    ہجوم غم سے مسرت کشید کرتے ہیں کہ ہم تو زہر سے امرت کشید کرتے ہیں انہوں نے پال رکھے ہیں زمانے بھر کے غم مرے لہو سے جو عشرت کشید کرتے ہیں ہماری فکر ابھی قید ہے ظواہر میں ہم اپنے کام سے شہرت کشید کرتے ہیں صدائیں ہم نے سنی ہیں جو شہر میں ان سے اک ایک لفظ بغاوت کشید کرتے ہیں میں ان ...

    مزید پڑھیے

    مرا تفکر غبار سوچیں نکھارتا ہے

    مرا تفکر غبار سوچیں نکھارتا ہے کہ میری آنکھوں میں سرخ شبنم اتارتا ہے میں آج خوف خدا سے محروم ہو گیا ہوں کئی خداؤں کا خوف اب مجھ کو مارتا ہے ڈرا رہا ہے مجھے وہ میرے پڑوسیوں سے مرے جگر میں جو زہر خنجر اتارتا ہے مرے محلے میں میرے بھائی جھگڑ رہے ہیں ادھر کوئی اپنے ترکشوں کو ...

    مزید پڑھیے

    میں ہی دیوانہ سہی لوگ تو فرزانے ہیں

    میں ہی دیوانہ سہی لوگ تو فرزانے ہیں کیوں حقائق میں ملا دیتے یہ افسانے ہیں ایک لمحے کو نگہ اور طرف بھٹکی تھی ورنہ ہم صرف تری دید کے دیوانے ہیں جس نے دیکھا نہ اسے ہوش رہا تن من کا تیری آنکھیں ہیں کہ جادو ہیں کہ مے خانے ہیں دل میں وہ کچھ ہے کہ لفظوں میں ادا ہو نہ سکے وہ سمندر تو یہ ...

    مزید پڑھیے

    آدمی کو وقار مل جائے

    آدمی کو وقار مل جائے گر جبیں کو غبار مل جائے کس کو پروا رہے مصائب کی فکر کو گر نکھار مل جائے آدمیت کا حسن ہے وہ شخص جس کو ان کا شعار مل جائے اک تمنا بڑے دنوں سے ہے لیلئ کوئے یار مل جائے وہ بڑا خوش نصیب ہے جس کو لذت انتظار مل جائے اک ذرا سوچئے تو ہوگا کیا گر جنوں کو قرار مل جائے

    مزید پڑھیے

    وہ کج کلہ جو کبھی سنگ بار گزرا تھا

    وہ کج کلہ جو کبھی سنگ بار گزرا تھا کل اس گلی سے وہی سوگوار گزرا تھا کوئی چراغ جلا تھا نہ کوئی در وا تھا سنا ہے رات گئے شہریار گزرا تھا گہر جب آنکھ سے ٹپکا زمیں میں جذب ہوا وہ ایک لمحہ بڑا با وقار گزرا تھا جو تیرے شہر کو گلگوں بہار بخش گیا قدم قدم بہ سر نوک خار گزرا تھا وہ جس کے ...

    مزید پڑھیے

    غم ہزاروں دل حزیں تنہا

    غم ہزاروں دل حزیں تنہا بوجھ کتنے ہیں اور زمیں تنہا بس گئے یار شہر میں جا کر رہ گئے دشت میں ہمیں تنہا اپنے پیاروں کو یاد کرتا ہے آدمی ہو اگر کہیں تنہا تیری یادوں کا اک ہجوم بھی ہے آج کی رات میں نہیں تنہا وہ کسی بزم میں نہ آئے گا گوشۂ دل کا وہ مکیں تنہا کاروبار حیات کا حاصل ایک ...

    مزید پڑھیے

    اپنے دشمن ہزار نکلے ہیں

    اپنے دشمن ہزار نکلے ہیں ہاں مگر با وقار نکلے ہیں ہم بھی کیا بادہ خوار ہو جائیں شیخ تو بادہ خوار نکلے ہیں گھر کا رستہ نہ مل سکا ہم کو گھر سے جو ایک بار نکلے ہیں چاند بن چاندنی کہاں ہوگی گو ستارے ہزار نکلے ہیں خون دل دے کے جن کو سینچا تھا نخل سب خار دار نکلے ہیں بند کوچے کی دوسری ...

    مزید پڑھیے