Mohammad Jameel Akhtar

محمد جمیل اختر

نوجوان پاکستانی افسانہ نگار

Young short story writer from Pakistan

محمد جمیل اختر کی رباعی

    ٹِک ٹِک ٹِک

    ٹِک ، ٹِک ، ٹِک ’’ایک تو اس وال کلاک کو آرام نہیں آتا ، سردیوں میں تو اس کی آواز لاوڈ سپیکر بن جاتی ہے‘‘ ٹِک ٹِک ٹِک یہ آواز اور یہ احساس واقعی بہت تکلیف دہ ہے ، خصوصا جب آپ گھر میں اکیلے ہوں ، اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے وال کلاک ٹک ٹک کی بجائے کم ، کم کہہ رہا ہو۔ ’’ کیا وقت یونہی ...

    مزید پڑھیے

    جِیرے کالے کا دُکھ

    یوں تو وہ اچھا تھا لیکن اس کے چہرے پہ دائیں جانب ایک سیاہ داغ تھا بالکل سیاہ جیسے کسی نے کالے پینٹ سے ایک دائرہ بنا دیا ہو۔ بچپن میں وہ اس داغ پر ہاتھ رکھ کر بات کرتا تھا تاکہ کسی کو اس کا داغ نہ دکھائی دے لیکن معلوم نہیں کیسے لوگوں کو وہ داغ دکھائی دے جاتا تھاوہ صابن سے چہرے کو دن ...

    مزید پڑھیے

    ٹکٹ چیکر

    پینتیس سال ٹرین میں سفر کرکرکے وہ تھک گیا تھاوہ جب مڑ کر اپنی زندگی کے گزرے سالوں کی جانب دیکھتا تو اسے سوائے سفر کے کچھ دکھائی نہ دیتا حالانکہ ان گزرے سالوں میں اس کی زندگی میں کیا کیا نہ ہوا تھا۔ شادی ہوئی، پانچ بچے ہوئے پھر وہ وقت بھی آیا کہ بچوں کی شادیاں بھی ہوگئیں لیکن وہ ...

    مزید پڑھیے

    ریلوے ا سٹیشن

    ’’جناب یہ ریل گاڑی یہاں کیوں رکی ہے ؟ ‘‘ جب پانچ منٹ انتظار کے بعد گاڑی نہ چلی تو میں نے ریلوے اسٹیشن پہ اترتے ہی ایک ٹکٹ چیکر سے یہ سوال کیا تھا۔ ’’ او جناب پیچھے ایک جگہ مال گاڑی کا انجن خراب ہوگیا ہے اب اس گاڑی کا انجن اسے لے کے اس اسٹیشن پہ آئے گا۔‘‘ ’’کیا اس کے علاوہ اور ...

    مزید پڑھیے

    ٹوٹی ہوئی سڑک

    وہ ایک چھوٹے سے گاؤں کی ایک چھوٹی سی سڑک تھی، جس کے ارد گرد درخت ہی درخت تھے درختو ں کے پیچھے سکول کی عمارت تھی، اس سڑک پرآپ اگر چلتے جائیں تو آگے ہسپتال آجائے گاجہاں ایک ڈاکٹرصاحب بیٹھتے تھے، جو سب کو ایک ہی طرح کی کڑوی ادویات دیتے تھے ان کے پاس کوئی دوا میٹھی نہیں تھی دوا کے ...

    مزید پڑھیے

    ایک الجھی ہوئی کہانی

    ’’ لو آج میں تمہیں ایک کہانی سناتا ہوں یہ کہانی سو سال پرانی ہے ‘‘ ’’ سو سال ؟‘‘ ’’ ہاں تقریبا سوسال‘‘ ’’ نہیں بھئی ہم نہیں سنتے اتنی پرانی کہانی ، دنیا چاند پر پہنچ چکی ہے اور تم ہمیں سو سال پرانی کہانیاں سنا رہے ہو‘‘ ’’کچھ کہانیا ں کبھی پرانی نہیں ہوتیں ، وہ وقت کے ...

    مزید پڑھیے

    یادداشت کی تلاش میں

    خط کے لفافے پر ٹکٹ لگاتے لگاتے اس کی یادداشت ختم ہوگئی اور اسے سب کچھ بھول گیا حتٰی کہ یہ بھی کہ لفافے پر لگائے ان دو ٹکٹوں کا کیامطلب ہے ۔جیسے بلب جل رہا ہو، روشنی ہواور یکایک اندھیرا چھاجائے ۔اس نے لفافے کودیکھاپھر اپنے ہاتھوں کواسے سمجھ نہ آئی کہ اس کا یہاں آنے کا مقصد کیا ...

    مزید پڑھیے

    مسکراتے شہر کا آخری اداس آدمی

    اس شہر میں ہروقت ہنستے رہنے کا قانون اب مکمل طور پر نافذ ہوچکاتھاسو اب وہاں کسی کو بھی رونے یا اداس رہنے کی اجازت نہیں تھی ۔ پولیس کے جوان گلی گلی گھومتے اوراگر انہیں کوئی بغیر مسکراہٹ کے ملتا تو اسے فوراًگرفتار کرلیتے ۔ رفتہ رفتہ ملک میں اداس لوگ ختم ہوگئے اور وہاں ایک ناختم ...

    مزید پڑھیے