گیت پیار کے
پیار کی دکان کوئی کھولتا بول میٹھے بول کوئی بولتا تلخیاں فضا میں ہیں گھلی ہوئی مصری کی مٹھاس کوئی گھولتا بات جنگ کی نہیں کرے کوئی امن کے لئے جیے مرے کوئی گفتگو میں کاش ہر ایک آدمی بولنے سے پہلے لفظ تولتا سوکھے پھولوں کو کوئی نکھارتا کوئی اس چمن کو پھر سنوارتا گنگناتا گیت پیار کے ...