ہم سے کرتے ہو بیاں غیروں کی یاری آن کر
ہم سے کرتے ہو بیاں غیروں کی یاری آن کر رہ گئی ہے آپ کی یہ دوست داری آن کر ہم کو آنے سے تمہاری بزم کے کیا تھا حصول دیکھ لیتے تھے مگر صورت تمہاری آن کر روٹھنے پر میرے کیا لازم تھا ہو جانا خفا بلکہ کرنی تھی تمہیں خاطر ہماری آن کر طعن بد خواہاں سے تو اک دم نہ پاوے گا قرار کی جو تیرے ...