Mohammad Hazim Hassan

محمد حازم حسان

محمد حازم حسان کی غزل

    افسردگی آزردگی پژمردگی بیکار ہے

    افسردگی آزردگی پژمردگی بیکار ہے اس پہ ہے جس کا توکل خوش ہے بیڑا پار ہے حوصلہ ہو عزم ہو محنت ہو اور امیدوار اور کچھ اس کے سوا کیا زیست میں درکار ہے جس نے سمجھا زندگی کو جنگ ہے وہ کامیاب قابل تحسیں ہے وہ جو بر سر پیکار ہے لعنتیں اور ذلتیں رسوائیاں ناکامیاں اس کی قسمت میں ہے جو کہ ...

    مزید پڑھیے

    کسی بھی حادثے سے زندگی کے ہم نہیں ڈرتے

    کسی بھی حادثے سے زندگی کے ہم نہیں ڈرتے کسی بھی حال میں ہم حوصلہ کچھ کم نہیں کرتے ہم آنے والے کل کے واسطے بے چین رہتے ہیں جو کل گزرا ہے اس کل کا کبھی ماتم نہیں کرتے ہماری ذات سے تکلیف پہنچے کوئی نا ممکن کوئی ناحق اگر روٹھے تو اس کا غم نہیں کرتے جنہیں معلوم ہے اشکوں کی قیمت اے مرے ...

    مزید پڑھیے

    اپنے بیگانوں میں میں نے فرق کچھ پایا نہیں

    اپنے بیگانوں میں میں نے فرق کچھ پایا نہیں اس لئے لب پر کوئی شکوہ کبھی لایا نہیں آسمان دل پہ بادل غم کا یوں چھایا رہا ہاں مگر آنکھوں سے میں نے اس کو برسایا نہیں خوش گواری کا تأثر آ گیا چہرہ پہ یوں زخم جو دل پر لگا تھا وہ تو بھر پایا نہیں تم نے غیروں کے لئے مجھ سے کیا جنگ و ...

    مزید پڑھیے

    دے خدا وسعت تو سب کے کام آنا چاہیے

    دے خدا وسعت تو سب کے کام آنا چاہیے دل میں دشمن کے بھی گھر اپنا بنانا چاہیے آپ کے دل میں جگہ میرے لئے کیا سچ ہے یہ اللہ اللہ اس سے بہتر کیا ٹھکانہ ہے گر کبھی نفرت کی کوئی لہر اٹھے قلب سے جس طرح ہو اس کو تو قابو میں لانا چاہیے بانٹتے ہی چاہیے رہنا محبت کے گلاب دل کے گلشن کو کہا کس ...

    مزید پڑھیے

    ہم ایک ہیں ہم ایک ہیں ہم ایک رہیں گے

    ہم ایک ہیں ہم ایک ہیں ہم ایک رہیں گے ہم دے کے خوشی اوروں کو دکھ ان کا سہیں گے ہم پھول ہیں خوشبو ہی سدا دیں گے جہاں کو ہرگز نہ کبھی کانٹا کہیں بن کے چبھیں گے ہم نرم کلامی کے محبت کے ہیں خوگر اخلاق ہر اک حال میں بہتر ہی رہیں گے مسکان ہمیں دینی ہے دشمن کے لبوں پر آنکھوں سے کسی کی نہ ...

    مزید پڑھیے