Mohammad Firoz Shah

محمد فیروز شاہ

محمد فیروز شاہ کی غزل

    اس نے لکھا تھا حرف جدائی مرے لیے

    اس نے لکھا تھا حرف جدائی مرے لیے پھر مٹ گئی تھی ساری خدائی مرے لیے گجرے تمام شہر میں بانٹ آیا تو کھلا گھر میں بھی منتظر تھی کلائی مرے لیے سندر گلاب خواب تو خوابوں کی بات ہے یہ رات نیند بھی تو نہ لائی مرے لیے پر نور سر زمین پہ آ کر بھلا دیا کس نے لہو سے شمع جلائی مرے لیے وہ بھی ...

    مزید پڑھیے