پیام عمل
گر قوم کی خدمت کرتا ہے احسان تو کس پر دھرتا ہے کیوں غیروں کا دم بھرتا ہے کیوں خوف کے مارے مرتا ہے اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے جو عمریں مفت گنوائے گا وہ آخر کو پچھتائے گا کچھ بیٹھے ہاتھ نہ آئے گا جو ڈھونڈے گا وہ پائے گا تو کب تک دیر لگائے گا یہ وقت بھی آخر جائے ...