عہد جیسے بھی بندھے تھے تیرے میرے درمیاں
عہد جیسے بھی بندھے تھے تیرے میرے درمیاں درد کے رشتے جڑے تھے تیرے میرے درمیاں غیرممکن تھا فصیلیں فاصلوں کی پھاندنا قسمتوں کے فیصلے تھے تیرے میرے درمیاں اک تکلم کا تعلق توڑنے سے کیا ہوا اور بھی کچھ رابطے تھے تیرے میرے درمیاں کیا کہوں منزل کی اس کی سمت بھی کوئی نہ تھی راستے ہی ...