Mohammad Faizullah Faiz

محمد فیض اللہ فیض

محمد فیض اللہ فیض کی غزل

    بزم سے اپنی جو اس طرح اٹھا دیتے ہیں

    بزم سے اپنی جو اس طرح اٹھا دیتے ہیں جانے کس جرم کی یہ لوگ سزا دیتے ہیں میں نے سوچا تھا ترا غم ہی مجھے کافی ہے لوگ آتے ہیں مجھے آ کے ہنسا دیتے ہیں غیر تو غیر ہیں اپنوں کی یہ حالت دیکھی جن پہ تکیہ کیا وہ لوگ دغا دیتے ہیں غم سے گھبرا کے کبھی لب پہ جو آتی ہے ہنسی وہ تصور میں مجھے آ کے ...

    مزید پڑھیے

    ہو خوشی میں تری خوشی میری

    ہو خوشی میں تری خوشی میری کاش ایسی ہو زندگی میری مقصد زندگی سمجھتا ہوں کام آئی ہے بے‌ سری میری چھین کر آپ نے مری خوشیاں کر دیں بے کار زندگی میری مجھ کو احساس ہو گناہوں کا کر دو بیدار آگہی میری فیضؔ کا دل نہ توڑیئے صاحب بخش دیجے مجھے خوشی میری

    مزید پڑھیے

    حال دل اپنا لکھوں حال تمہارا لکھوں

    حال دل اپنا لکھوں حال تمہارا لکھوں تو ہی بتلا کہ ترے خط میں میں کیا کیا لکھوں ان کو اپنانے کی سب کوششیں ناکام ہوئیں بازیٔ عشق میں اب اپنے کو ہارا لکھوں جس میں تصویر نظر آتی تھی ہر وقت تری آئنہ ٹوٹ گیا اب وہ تمہارا لکھوں گر گریباں ہی سلامت ہے نہ دامن اس کا کیسی حالت میں ہے ...

    مزید پڑھیے

    جدھر دیکھیے ہے قیامت کی دنیا

    جدھر دیکھیے ہے قیامت کی دنیا مصیبت ہے گویا محبت کی دنیا ترے حسن کی نور افشانیوں سے ہے معمور ہر دم محبت کی دنیا دل مضطرب ایسا ممکن کہاں ہے مسرت دکھائے محبت کی دنیا کبھی حسرتوں سے کبھی آفتوں سے ہے آباد ہر دم محبت کی دنیا نہ جا فیضؔ دنیا کی رنگینیوں پر سراسر ہے دھوکہ محبت کی ...

    مزید پڑھیے