بزم سے اپنی جو اس طرح اٹھا دیتے ہیں
بزم سے اپنی جو اس طرح اٹھا دیتے ہیں جانے کس جرم کی یہ لوگ سزا دیتے ہیں میں نے سوچا تھا ترا غم ہی مجھے کافی ہے لوگ آتے ہیں مجھے آ کے ہنسا دیتے ہیں غیر تو غیر ہیں اپنوں کی یہ حالت دیکھی جن پہ تکیہ کیا وہ لوگ دغا دیتے ہیں غم سے گھبرا کے کبھی لب پہ جو آتی ہے ہنسی وہ تصور میں مجھے آ کے ...