Mohammad Aslam Khan Aslam

محمد اسلم خان اسلم

محمد اسلم خان اسلم کی غزل

    یہ گھر سجایا ہے تم نے جناب کس کے لیے

    یہ گھر سجایا ہے تم نے جناب کس کے لیے یہ خار کس کے لیے ہیں گلاب کس کے لیے اگر ہے پیاس بجھانی تو جستجو بھی کرو بچا کے کس نے رکھی ہے شراب کس کے لیے کتاب زیست کو یکجا کروں تو کیسے کروں یہ باب کس کے لیے ہے وہ باب کس کے لیے جہاں میں کوئی بھی اہل نظر نہیں ملتا اگر کروں بھی تو چہرہ کتاب کس ...

    مزید پڑھیے

    خود اپنے عکس کو اپنی نظر میں کیا رکھنا

    خود اپنے عکس کو اپنی نظر میں کیا رکھنا کہ ہم نے چھوڑ دیا گھر میں آئنہ رکھنا کسی کے پیڑ کا سایہ نہ آ سکے گھر میں گھروں کے بیچ میں اتنا تو فاصلہ رکھنا تمام عمر ہی چاہے اڑان میں گزرے پرائی شاخ پہ ہرگز نہ گھونسلہ رکھنا مری نظر بھی اندھیروں سے اوب سکتی ہے کوئی چراغ تو یارو جلا ہوا ...

    مزید پڑھیے